مندر کے پجاریوں و ملازمین کی تنخواہوں کیلئے 58 کروڑ جاری

   

کیا یہی اقلیتوں کے ساتھ انصاف ہے ؟
آئمہ و موذنین کئی ماہ سے اعزازیہ سے محروم۔ معمولی بجٹ کے باوجود اجرائی میں مجرمانہ لاپرواہی
حیدرآباد۔16۔مئی (سیاست نیوز) ریاست میں اقلیتوں کے ساتھ حکومت کا امتیازی اور جانبدارانہ سلوک بڑھتا جارہا ہے جس کی کئی مثالیں اور ثبوت موجود ہے۔ مساجد کے ائمہ موذنین کو جنوری تا اپریل اعزازیہ جاری نہیں کیا گیا جبکہ منادر کے پجاریوں اور ملازمین کی تنخواہوں کیلئے آج 58,59,82 کروڑ روپئے جاری کئے گئے جس سے مسلمانوں میں حکومت کے خلاف مایوسی اور ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے علاوہ وزراء اور حکمراں جماعت کے منتخب و دیگر قائدین تلنگانہ میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن اقلیتوں کی ترقی اور بہبود پر تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں جس کی کئی مثالیں موجود ہیں جس پر روزنامہ سیاست وقتاً فوقتاً روشنی ڈالتے ہوئے حکومت تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ریاست میں حکومت کی جانب سے تقریباً 10 ہزار ائمہ موذنین کو ماہانہ صرف 5 ہزار روپئے اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ جب سے اسکیم کا آغاز ہوا تب سے آج تک ایک مرتبہ بھی وقت پر اعزازیہ جاری نہیں کیا گیا ۔ پانچ تا چھ ماہ بعد جب جاری کیا گیا مکمل بقایہ یکمشت جاری نہیں کیا گیا ۔ ا یک تا تین ماہ بقایا برقرار رکھا گیا ۔ حکومت کی مجرمانہ غفلت سے ائمہ موذنین پریشان و مسائل کا شکار ہیں جس پر توجہ دینا اقلیتی عوامی منتخب نمائندوں اور وقف بورڈ کیلئے ضروری ہے مگر ہر کوئی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کا خمیازہ اقلیتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ حکومت کی ذمہ داری ہے ، وہ سماج کے تمام مذاہب اور طبقات سے انصاف کریں ۔ تاہم بی آر ایس حکومت نرم ہندو توا پالیسی اپناکر اقلیتوں کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ خزانے سے کئی منادر تعمیر کئے جارہے ہیں جس پر کروڑ ہا خرچ کئے جارہے ہیں ۔ اس پر اقلیتوں و دوسرے طبقات کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کو نظر انداز کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ تلنگانہ میں 14 فیصد اقلیتیں ہیں جنہیں نظر انداز کرنا حکمراں بی آر ایس کو مہنگا پڑسکتا ہے جس کی تازہ مثال کرناٹک ہے جہاں پر حکمراں جماعت بی جے پی کی ہراسانی کے بعد مسلمانوں نے اتحاد کا ثبوت دیا اور کانگریس کو ووٹ دے کر جنوبی ہند میں بی جے پی کیلئے تمام دروازے بند کردیئے ۔ چیف منسٹر کے سی آر ریاست میں کامیابی کی ہیٹ ٹرک بنانا چاہتے ہیں مگر اقلیتوں کو نظر انداز کرکے اپنے خواب کو کبھی شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں، اس پر چیف منسٹر کو سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے ۔ اگر بی آر ایس تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے سے محروم ہوجاتی ہے تو قومی سیاست میں کلیدی رول ادا کرنے کی جو حکمت عملی تیار کی گئی ہے ، وہ بھی دھری کی دھری رہ جائے گی۔ ن