منوگوڑ میں تمام جماعتیں ووٹر کی سیاست سے متفکر ‘ ہر جماعت اندیشوں کا شکار

,

   

سہ رخی مقابلہ میںعوامی موڈ سمجھنے میںسبھی کو مشکلات ۔ دولت پانی کی طرح بہائی جا رہی ہے ۔ دلالوں کی چاندی

حیدرآباد۔20 ۔اکٹوبر(سیاست نیوز) منوگوڑحلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دولت پانی کی طرح بہائی جا رہی ہے لیکن اب تک کسی بھی جماعت کی جانب سے وثوق سے یہ دعویٰ نہیں کیا جا رہاہے کہ وہ منوگوڑ میں کامیابی حاصل کرنے والی ہے کیونکہ حلقہ کے عوام نے امیدواروں کے درمیان تجسس کو برقرار رکھا ہوا ہے اور اس کے ذریعہ رائے دہندوں اور جلسوں و ریالیوں میں شرکت کرنے والوں کو کافی آمدنی ہورہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ منوگوڑ حلقہ میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل جلسہ یا ریالی میں شرکت کیلئے فی کس 500 روپئے دیئے جا رہے تھے لیکن انتخابی تاریخ کے اعلان کے بعد اس رقم کو گھٹا کر 300 روپئے کردیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ راشٹر سمیتی ‘ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی تینوں جماعتوں کے امیدوار انتخابی تشہیر کے پروگرامس کو کامیاب کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ نوجوان ووٹرس بالخصوص پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے رائے دہندوں میں بی جے پی کے متعلق ہمدردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ملک مودی کے ساتھ ہے اسی لئے منوگوڑمیں بھی عوام مودی کے ساتھ رہیں گے جبکہ ضعیف افراد بالخصوص وظیفہ پیرانہ سالی سے استفادہ کرنے والوں کا کہناہے کہ وہ ماہانہ 2000 روپئے حاصل کر رہے ہیں اسی لئے وہ ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں گے۔ منوگوڑمیں عوام کے درمیان پہنچ کر جب سوال کیا جا رہاہے کہ انتخابات میں کسے کامیابی حاصل ہوگی تو ووٹرس کسی ایک کا نا م نہیں لے رہے ہیں بلکہ ان کا جواب تجسس سے بھرا ہے کیونکہ وہ جواب دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ’کنول یا کار‘ لیکن اگر دونوں میں ووٹ منقسم ہوتے ہیں تو ہاتھ بھی جیت سکتا ہے ۔اس طرح کے عوامی تبصروں سے سیاسی قائدین خود تشویش میں مبتلاء ہونے لگے ہیں اور وہ اپنے امیدواروں کی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیںلیکن عوامی رجحان سے واقف ہونے میں ناکام ہیں۔تلنگانہ راشٹر سمیتی اور بی جے پی کی جانب سے فی کس 300 روپئے دیئے جا رہے ہیں تو کانگریس بھی 300 روپئے فی کس ادا کر رہی ہے اسی لئے کہا جار ہا ہے کہ کانگریس بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہے۔بتایاجاتاہے کہ منوگوڑحلقہ اسمبلی کے شہری و نواحی علاقوں کے مکین بالخصو ص کالج طلبہ کالجس سے حاضر ہوکر انتخابی ریالیوں اور جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں تاکہ انہیں آمدنی ہو۔نوجوان نسل اور خواتین کے رجحانات کے متعلق کہا جار ہاہے کہ ان طبقات میں بی جے پی کی مقبولیت ہے لیکن ضعیف شہریوں کے علاوہ ایسے شہری جو ملک کو تباہی سے بچانے کے حق میں ہیں وہ بی جے پی کے خلاف ہیں لیکن ان میں بڑی تعداد یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ وہ کانگریس کے ساتھ جائیں یا ٹی آر ایس کی تائید کریں۔ منوگوڑ میںسیاسی دلالوں کی چاندی ہورہی ہے کیونکہ سیاسی جاعتوں کی ریالیوں اور جلوسوں کے علاوہ جلسہ میں شرکت کرنے والے عوام کو ادا کی جانے والی رقومات ان دلالوں کے ذریعہ ہی ادا کی جا تی ہے اور سیاسی دلال شرکاء کو ادا کی جانے والی رقومات میں اپنا کمیشن وصول کرکے خوب دولت بٹور رہے ہیں۔