موجودہ صورتحال میں بلاول اور جئے شنکر کی ملاقات نارمل:امریکی اسکالر

   

واشنگٹن : اگرچہ ہندوستان اور پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے موقع پر دو طرفہ مذاکرات نہیں کیے، لیکن کثیر الجہتی اجلاس کے موقع پر ان کی لڑائی نے جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گوا میں دوطرفہ مذاکرات کی نہ تو درخواست کی اور نہ ہی ہندوستان نے پیشکش کی، حالانکہ مبصرین نے نشاندہی کہ یہ کثیرالجہتی مذاکرات ’مستقبل میں دونوں حریفوں کے درمیان بات چیت کی بنیاد بن سکتے ہیں‘، جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے ایک رپورٹ میں اس کی نشاندہی کی۔ہندوستان نے پاکستانی وفد سے سختی سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھا، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو یاد دلایا کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ ’ہم ایک ہی کشتی پر سوار ہیں‘۔تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ حملے میں مبینہ طور پر پاکستان کے ملوث ہونے اور پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں ان کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کو اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کرنے میں ابھی بھی مسائل ہیں۔پاکستانی وزیر خارجہ نے ہندوستان کے دعوے کا جواب دیتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ انضمام کو کالعدم قرار دے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرے۔بلاول بھٹو زرداری نے بعد میں اسلام آباد میں اپنے چینی ہم منصب چن گانگ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں سی پیک کے بارے میں کہا کہ اس منصوبہ نے سماجی و اقتصادی ترقی کو تیز کیا ہے۔اس سے قبل گوا میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کا مسئلہ ’سفارتی پوائنٹ اسکورنگ‘ کے لیے نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔