8 سال کے دوران تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج منظور نہیں کیا گیا
حیدرآباد۔/12 مئی، ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج منظور نہ کرنے پر مرکز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی گجرات کے نہیں بلکہ سارے ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ مرکز کے تلنگانہ سے امتیازی سلوک کی وجہ سے طلبہ طبی تعلیم سے محروم ہورہے ہیں۔ تیز ترقی کرنے والی ریاستوں سے تعاون کرنے کے بجائے مرکزی حکومت انتقامی کارروائی کررہی ہے۔ کے ٹی آر نے ٹوئٹر پر وزیر اعظم کے گجرات کے ایک پروگرام کی ویڈیو شیئر کی۔ ایک پروگرام میں نریندر مودی حکومت کی اسکیمات سے استفادہ کرنے والوں سے تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ایوب پٹیل نامی شخص کو مودی نے مخاطب کیا جس پر ایوب پٹیل نے اپنی بیٹی کی خواہش کو وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا اور کہا ان کی دختر مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ ایوب کے قریب موجود اس کی دختر سے وزیر اعظم نے دریافت کیا کہ وہ کیوں ڈاکٹر بننا چاہتی ہے جس پر لڑکی نے بتایا کہ میرے والد نے سعودی عرب میں کام کرنے کے دوران آنکھ میں تکلیف محسوس ہونے پر آئی ڈراپ کا استعمال کیا جس سے وہ اپنی بینائی سے محروم ہوگئے۔ دوسرے عام لوگوں کی طرح وہ دنیا دیکھ نہیں پارہے ہیں۔ لڑکی کی اس بات کو سن کر مودی جذباتی ہوگئے اور اس کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے تعاون کرنے کا تیقن دیا۔ اس ویڈیو پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کی ٹی آر نے کہا کہ 8 سال سے تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج منظور نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت کی نمائندگیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے طلبہ کو طبی تعلیم سے محروم کرنے کے الزامات عائد کئے۔ن