مودی کی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے بلجیم کے ہم منصب کیساتھ بات چیت

   

نئی دہلی، 3 ستمبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو یہاں حیدرآباد ہاؤس میں بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور کے ساتھ اعلیٰ سطحی دوطرفہ میٹنگ کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے حکمت عملی، دفاع، سلامتی اور اقتصادی شعبوں میں ہندوستان-بیلجیئم تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔یہ میٹنگ فروری 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد مسٹر ڈی ویور کا ہندوستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے اور کسی ہندوستانی وزیر اعظم کی دعوت پر تقریباً دو دہائیوں میں بیلجیئم کے وزیر اعظم کا ہندوستان کا پہلا دورہ ہے ؛ بات چیت میں وسیع تر امور کا احاطہ کیاگیا جس میں دوطرفہ اسٹریٹجک روابط کومضبوط کرنا اور ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان تعاون شامل ہیں ۔ دونوں رہنماؤں نے جاری ہندوستان-یوروپی یونین آزاد تجارت کے معاہدے (ایف ٹی اے ) کے مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں نئی دہلی اور برسلز کے درمیان اقتصادی اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔بات چیت میں دفاعی اور سلامتی تعاون نمایاں طور پر شامل رہا۔ بیلجیئم کے وزیردفاع تھیو فرینکن نے بات چیت کے دوران مسٹر ڈی ویور کے ساتھ شرکت کی، جو دفاع، سلامتی اور ابھرتے ہوئے اسٹریٹجک چیلنجوں میں تعاون کو دونوں فریقوں کی طرف سے دی جانے والی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ دونوں وزرائے اعظم نے اہم تجارتی اور ٹیکنالوجی کے حامل شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے مواقع کا بھی جائزہ لیا۔
روایتی اقتصادی تعلقات، خاص طور پر ہیرے کی صنعت، کے ساتھ ساتھ تعاون کے نئے شعبوں جیسے گرین ہائیڈروجن اور سیمی کنڈکٹرز پر تبادلہ خیال کیا گیا، وہ شعبے جو ہندوستان کے اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل عزائم کے لیے اہم ہوتے جا رہے ہیں۔بات چیت میں باہمی دلچسپی کے عالمی اور علاقائی امور بھی شامل تھے ، جن میں جیو پولیٹیکل چیلنجز، دہشت گردی کا مقابلہ اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کی ضرورت شامل ہے ۔ ہندوستان اور بیلجیئم دہشت گردی کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں اور انہوں نے سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل قریبی بین الاقوامی تعاون کی حمایت کی ہے ۔ یہ دورہ یوروپی ممالک کے ساتھ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور یوروپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اس کی کوششوں کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے ۔ بیلجیئم، ایک اہم یوروپی اقتصادی پارٹنر ہونے کے علاوہ، برسلز میں یوروپی یونین کے اہم اداروں کا مرکز بھی ہے ، جس سے یوروپی بلاک کے ساتھ ہندوستان کے وسیع ترروابط میں اس کا کردار خاص طور پر اہم ہو جاتا ہے ۔