سماجی جہدکاروں اور سائنسدانوں کی شدید مخالفت ، ڈائرکٹر سی تارا ستیہ وتی کا حکومت کو مکتوب
حیدرآباد۔4مئی(سیاست نیوز) موسیٰ ندی کو خوبصور ت بنانے کے سلسلہ میں تیار کئے گئے منصوبہ کے خلاف سماجی جہدکاروں کے بعد اب سائنسدانوں نے بھی اس کی مخالفت شروع کردی ہے اور کہا جار ہاہے کہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے نام پر کئے جانے والے اقدامات کے نتیجہ میں انڈین انسٹیوٹ آف ملٹس ریسرچ کی زائد از 10 ایکڑ اراضی متاثرہونے کا خدشہ ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے تحت ندی کے طاس میں رہنے والے غریب مکینوں کو منتقل کرنے کے اقدامات کے آغاز کے علاوہ ندی میں تعمیرات کے منصوبہ کے خلاف ندیوں اور تالابوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے اس پراجکٹ کی مخالفت شروع کی تھی لیکن اب جبکہ حکومت تلنگانہ نے پروفیسر جئے شنکر زرعی یونیورسٹی میں موجود قومی ادارہ کی اراضی کو اس پراجکٹ کے لئے حاصل کرنے کی غرض سے اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔تحقیقی ادارہ میں خدمات انجام دینے والے سائنسدانوں کا کہناہے کہ ملک میں ملٹس بالخصوص باجرہ ‘ جوار اور جو کے علاوہ دیگر اجناس پر جاری تحقیق میں رکاوٹ پیدا کرنے کے علاوہ کاشتکاروں و کسانوں کے لئے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔موسی ریور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے مذکورہ اراضی کی پراجکٹ کے لئے نشاندہی کے بعد سائنسدانوں میں تشویش پیدا ہوچکی ہے اور ان کا کہناہے کہ اس 10.68 ایکڑ اراضی کو سائنسدان خشک اراضیات پر زرعی سرگرمیوں کی تحقیق کے علاوہ ملٹس کی کاشت کے سلسلہ میں اقدامات پر تحقیق کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور اس ادارہ کے مؤثر نتائج برآمد ہونے لگے ہیںاسی لئے مرکزی حکومت نے اس ادارہ کو’عالمی مرکز مہارت‘ کا درجہ دیا ہے جو کہ آئی آئی ایم آر کو ملک بھر کے اداروں میں قیادت کی حیثیت فراہم کر تا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انڈین انسٹیٹوٹ آف ملٹس ریسرچ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سی تاراستیہ وتی نے موسی ریورڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذمہ داروں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس بات کی خواہش کی ہے کہ وہ اس تحقیقی ادارہ کی اراضی کے حصول کی کوششوں کو ترک کردیں اور پراجکٹ میں اس اراضی کے حصول کو نکالنے کے اقدامات کریں۔ ڈائریکٹر آئی آئی ایم آر کے علاوہ انڈین کونسل آف اگریکلچر ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ایم ایل جاٹ نے بھی ریاستی حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ موسیٰ ندی کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے نام پر اس قومی ادارہ کی اراضی کو نشانہ بناتے ہوئے تحقیق کو متاثر کرنے سے اجتناب کریں ۔3/m/b