37 سال قبل وطن بہار سے آئے مولانا مرحوم کے انتقال پر جلسہ ’’ذکر محاسن‘‘، علماء کا خطاب
مٹ پلی ۔ 27 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بسم اللہ مسجد مٹ پلی میں منعقدہ جلسہ ذکر محاسن سے جمعیۃ العلماء مٹ پلی سکریٹری قاری محمود الحسن قاسمی، قاضی مٹ پلی مولانا عبدالحمید قاسمی جمعیۃ العلماء ضلع جگتیال، صدر مفتی سید مظہر قاسمی، ضلعی سکریٹری مفتی عبدالمعز شامزی جمعیۃ العلماء ضلع نرمل، صدر مفتی الیاس احمد قاسمی، جمعیۃ العلماء جگتیال سٹی صدر خواجہ عقیل جمعیۃ العلماء، کورٹلہ صدر مفتی عبدالمجیب، حافظ محمد ابوبکر وجیہہ الدین، مولانا محمد عمر نجیح الدین سبیلی، ڈاکٹر سید غلام دستگیر اور دیگر نے مخاطب کرتے ہوئے مولانا محمد سجاد حسین قاسمی کے گراں قدر انمول خدمات پر روشنی ڈالی۔ قاری محمود الحسن قاسمی نے کہا کہ مولانا محمد سجاد حسین قاسمی 37 سال قبل اپنے وطن بہار پورنیہ سے حیدرآباد آئے، پھر کورٹلہ مٹ پلی کے علاقہ میں دینی خدمات کے لئے مٹ پلی کی سرزمین پر قیام پذیر ہوئے۔ ابتدائی صبر آزما حالات سے گذر کر اپنی ثابت قدمی استقلال و ہمت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے علم کے فیض سے فرزندان توحید کو سیراب کیا۔ پھر مدرسہ عربیہ تجوید القرآن کی بنیاد ڈالی۔ ضلعی سکریٹری جمعیۃ العلماء مفتی عبدالمعز شامزی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد سجاد حسین قاسمی ایک جید عالم دین و حافظ قرآن نے علاقہ میں نمایاں خدمات انجام دیا اور کئی چند حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے خدمتی مشن کو آگے بڑھایا۔ صدر جمعیۃ العلماء نرمل مفتی محمد الیاس احمد قاسمی نے کہا کہ مولانا محمد سجاد حسین قاسمی کئی صلاحیتوں کے حامل ایک سنجیدہ مزاج شاعر اور ادیب بھی تھے۔ انہوں نے مٹ پلی کی سرزمین پر تشنگان علم دین کو سیراب کرنے کے لئے مدرسہ عربیہ تجوید القرآن کے نام سے پودا لگایا ہے۔ اس کی حفاظت اور اس ادارہ کی ترقی ہم سب کی ذمہ داری ہے اور مولانا مرحوم کے پسماندگان کو سہارا دینا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے۔ صدر جمعیۃ العلماء ضلع جگتیال مفتی سید مظہر قاسمی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد سجاد حسین قاسمی کے مزاج میں ظرافت اور سنجیدگی بہت تھی۔ قاضی مٹ پلی مولانا عبدالحمید قاسمی نے کہا کہ مولانا کی ذہانت مثالی تھی۔ انہوں نے اپنے طالب علمی کے دور میں صرف چار ماہ دس دن میں قرآن پاک کا حفظ کرکے علاقہ میں اپنا ریکارڈ بنایا تھا۔ حافظ و قاری محمد ابوبکر وجہہ الدین، مولانا محمد سلطان قاسمی، حافظ محمد جاوید، حافظ مبین، حافظ محمد عرفان، حافظ آفتاب، حافظ عثمان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔