حیدرآباد۔/17 مئی، ( سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد میں ہندو دہشت گردوں کے ہاتھوں کئے گئے بم دھماکہ کی 16 ویں برسی کے موقع پر پولیس کی جانب سے پرانے شہر میں سیکوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے گئے ہیں۔ 18 مئی سال 2007 کو مکہ مسجد میں جمعہ کے موقع پر طاقتور بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 9 مصلیان جاں بحق اور 60 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ حالانکہ اس کیس کی تحقیقات سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی ) اور بعد میں نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی ( این آئی اے ) نے کی تھی اور اس کیس میں کئی آر ایس ایس کے سرگرم کارکن بشمول سوامی اسیمانند کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن استغاثہ کی جانب سے کمزور شواہد پیش کرنے پر انہیں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 16 اپریل 2018 کو بری کردیا تھا۔ این آئی اے نے ذیلی عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل داخل کرنے سے گریز کیا جس کے نتیجہ میں مہلوکین کے ارکان خاندان نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں رٹ درخواست داخل کی ہے۔ دھماکہ اور اس دوران پیش آئے پولیس فائرنگ میں مصلیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کیلئے قائم کئے گئے جسٹس بھاسکر راؤ کمیشن کی جانب سے آندھرا پردیش حکومت کو رپورٹ پیش کئے جانے کے باوجود بھی اس رپورٹ کو اب تک عام نہیں کیا گیا ہے جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ب