مہاراشٹرا میں اقلیتوں کے پسماندہ طبقات کا ریزرویشن

   

ختم کرنے کے فیصلہ پر کانگریس کی تنقید

ممبئی، 18 فروری (یو این آئی) مہاراشٹر اکے سابق وزیر اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن نسیم خان نے ریاست کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے ، جس کے تحت ریاست میں اقلیتوں کے پسماندہ طبقات کو تعلیم میں ملنے والا پانچ فیصد ریزرویشن ختم کر دیا گیا ہے ۔ نسیم خان نے تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کو اقلیتوں کے ساتھ سنگین غلطی اور ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی حکومت نے اس اقدام کے ذریعے ایک بار پھر اپنا پسماندہ اور اقلیت مخالف چہرہ ظاہر کر دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2014 میں کانگریس کی قیادت والی اتحادی حکومت نے مسلم برادری کے اندر پسماندہ طبقات کو تعلیم اور ملازمتوں میں پانچ فیصد ریزرویشن دینے کا آرڈیننس جاری کیا تھا۔ بمبئی ہائی کورٹ نے مسلم پسماندہ طبقات کے لیے پانچ فیصد تعلیمی ریزرویشن کے حق میں عبوری حکم دیا تھا، جسے تعلیمی سال 2014-15 میں نافذ کیا گیا، تاہم بعد میں بی جے پی حکومت نے اس عدالتی حکم کو نافذ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو مسلسل اٹھایا گیا اور اس وقت بی جے پی حکومت نے یقین دہانی بھی کرائی تھی مگر اسے پورا نہیں کیا گیا۔ نسیم خان نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت نے ریاست میں اقلیتوں کے لیے کانگریس قیادت والی حکومت کی شروع کردہ تمام اسکیمیں بند کر دی ہیں۔ طلبہ کے لیے وظیفہ اسکیم شروع کی گئی تھی مگر ان منصوبوں کی فنڈنگ روک دی گئی۔ ان کے مطابق اس کے لیے سالانہ تقریباً 90 کروڑ روپے درکار تھے لیکن حکومت نے صرف 20 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں میں صرف مسلمان ہی شامل نہیں بلکہ جین، سکھ اور پارسی برادریاں بھی اس میں شامل ہیں۔