حیدرآباد۔18 ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں جمہوری اصولوں اور اظہار خیال کی آزادی کے لئے مسخروں کو اپنے اسٹیج شو کرنے کی اجازت ہے لیکن صحافیوں کو آزادانہ صحافت کی اجازت نہیں ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے جنرل باڈی اجلاس میں صحافیوں کو داخلہ سے روک دیئے جانے پر برہم صحافیوں نے کونسل ہال کے روبرو شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے صحافتی آزادی پر حملہ قرار دیا اور کہا کہ مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد جی وجیہ لکشمی نے سیاہ تاریخ رقم کی ہے ۔صحافیوں کو کونسل ہال میں جی ایچ ایم سی کے اجلاس کی کاروائی کوور کرنے کے لئے پہنچنے پر داخلہ سے روک دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ کونسل ہال میں بیٹھ کر کونسل کی کاروائی کی رپورٹنگ کے بجائے کونسل ہال سے متصل پنور ہال میں لائیو ٹیلی کاسٹ کا مشاہدہ کرتے ہوئے رپورٹنگ کریں۔اجلاس کی کاروائی کی رپورٹنگ کیلئے پہنچنے والے صحافیوں نے مئیر کے ان احکامات کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کبھی اس طرح سے بلدیہ کے اجلاس کی رپورٹنگ سے صحافیوں کو نہیں روکا گیا لیکن پہلی مرتبہ صحافیوں کو ان کی ذمہ داری ادا کرنے سے روکا جا رہاہے جو کہ انہتائی بدبختانہ ہے۔صحافیوں کو کونسل ہال میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیئے جانے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے کارپوریٹرس نے مئیر کے رویہ کو تنقیدکا نشانہ بنایا اور صحافیوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جس پر مئیر جی ایچ ایم سی جی وجیہ لکشمی نے کہا کہ اجلاس ان کی صدارت میں منعقد ہورہا ہے اور وہ جانتی ہیں کہ کسے اندر آنے کی اجازت دینا ہے اور کسے نہیں۔5گھنٹے سے زائد جاری رہے صحافیوں کے احتجاجی مظاہرہ کے دوران عہدیداروں نے متعدد مرتبہ انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی اور مصالحت کے ذریعہ مئیر کی بات مان لینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مئیر کو جو ہدایات موصول ہوئی ہیں اس کے مطابق وہ کام کر رہی ہیں ۔احتجاجی صحافیوںسے بی جے پی اور کانگریس کے کارپوریٹرس نے اظہار یگانگت کرتے ہوئے اس کاروائی کو آزادیٔ صحافت پر کاری ضرب قراردیا۔صحافیوں نے 5 گھنٹے تک فرش پر بیٹھ کراحتجاج کے بعداعلان کیا کہ وہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے جنرل باڈی اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے اور جنرل باڈی اجلاس کی روداد کی رپورٹنگ نہیں کی جائے گی۔م