میری قیادت میں امریکہ کو مزید بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا : ٹرمپ

,

   

ہندوستان میں ہرلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل پر 50 فیصد ٹیکس ناقابل قبول ، امریکی صدر کا انٹرویو، تمام ممالک پر امریکہ کو لوٹنے کا الزام

واشنگٹن ۔ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے حالانکہ امریکی موٹر سائیکلس پر اپنی امپورٹ ڈیوٹی (ٹیکس) صد فیصد سے گھٹا کر 50 فیصد کردیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ٹیکس کی یہ شرح بہت زیادہ ہے اور امریکہ کیلئے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ان کی (ٹرمپ) قیادت میں امریکہ اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے جسے زیادہ بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ پیر کے روز سی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ کوئی بیوقوف ملک نہیں ہے۔ زرا ہندوستان کی طرف دیکھے جو ہمارا بہترین دوست ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب دیکھئے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔ ایک موٹر سائیکل پر 100 فیصد ٹیکس جبکہ ہم نے ان سے کبھی کوئی ٹیکس طلب نہیں کیا۔ یاد رہیکہ ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل کو لیکر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عرصہ دراز سے تنازعہ چلا آرہا ہے۔ ٹرمپ ہندوستان سے اس بات کے خواہاں ہیں کہ ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل پر ہندوستان کوئی ٹیکس عائد نہ کرے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم ہند نریندر مودی سے ہوئی بات چیت کا بھی حوالہ دیا کہ کس طرح ہندوستان نے پہلے 100 فیصد ٹیکس کا نفاذ کیا اور جب امریکہ نے احتجاج کیا تو ٹیکس کی شرح گھٹا کر 50 فیصد کردی گئی لیکن امریکہ ہندوستان کو بتانا چاہتا ہیکہ یہ 50 فیصد ٹیکس بھی امریکہ کیلئے ناقابل قبول ہے۔

مودی جی کو صرف ایک فون کال کی گئی تھی جس پر انہوں نے ٹیکس کی شرح کو 100 فیصد سے کم کرتے ہوئے 50 فیصد کردیا لیکن مودی جی یہ 50 فیصد بھی ہمارے لئے ناقابل قبول ہے کیونکہ امریکہ سرے سے کوئی ٹیکس عائد ہی نہیں کرتا لہٰذا صفر بمقابلہ 50 ایک غیرمنطقی موازنہ ہے۔ ٹرمپ نے البتہ یہ اشارہ بھی دیا کہ امریکی موٹر سائیکلس پر 50 فیصد ٹیکس کے نفاذ میں مزید کمی یا اسے بالکل ختم کردینے کیلئے دونوں ممالک میں بات چیت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ انہوں نے طنزیہ لہجہ میں کہا کہ امریکہ ایک ایسا بینک ہے جسے ہر ملک لوٹنا چاہتا ہے۔ اگر ہم بینک نہ ہوتے تو ہندوستان بھی بات چیت کیلئے کیوں تیار ہوتا؟ چونکہ امریکہ سے ہر ایک ملک کا مفاد وابستہ ہے لہٰذا وہ امریکہ سے بات چیت کیلئے فوری تیار ہوجاتے ہیں۔ دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے میں امریکہ کو 800 بلین ڈالرس کے خسارہ کا سامنا ہے لیکن کسی ملک کو پرواہ نہیں ہے۔