حیدرآباد۔/26 فروری، ( سیاست نیوز) ورنگل کی میڈیکل طالبہ ڈی پریتی جس نے اپنے ساتھی میڈیکل طالب علم ایم اے سیف کی مبینہ ہراسانی سے تنگ آکر اقدام خودکشی کیا تھا نمس ہاسپٹل میں آج فوت ہوگئی۔ میڈیکل طالبہ کی موت کے بعد مختلف گریجن تنظیموں نے متوفی طالبہ کو ایکس گریشیا کے اعلان کرنے اور ساتھی طالب علم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ۔ پریتی نے گذشتہ ہفتہ کاکتیہ میڈیکل کالج ورنگل میں اپنے ساتھی طالب علم ایم اے سیف کی مبینہ ریاگنگ اور ہراساں کے نتیجہ میں خودکشی کی کوشش کی تھی اور اسے پنجہ گٹہ نمس ہاسپٹل میں شریک کیا گیا تھا۔ نمس ہاسپٹل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ستیہ نارائنا نے آج ایک میڈیکل بلیٹن جاری کرکے یہ اعلان کیا کہ ماہر ڈاکٹرس کی ٹیم کی کوششوں کے باوجود جان بچانے میں کامیابی نہیں ہوسکی اور پریتی آج رات 9 بجکر 10 منٹ پر فوت ہوگئی۔ پریتی کے ریاگنگ کے الزام کے بعد ورنگل پولیس نے سال دوم کے میڈیکل طالب علم ایم اے سیف کو گرفتار کرکے اسے عدالتی تحویل میں دے دیا تھا۔ پریتی کی موت کے بعد پولیس کمشنر ورنگل اے وی رنگناتھ نے آج اعلان کیا کہ سیف کے خلاف مقدمہ کی دفعات میں ترمیم کی جارہی ہے اور تعزیرات ہند کی دفعہ 306 کا اضافہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورنگل پولیس نے پہلے ہی سیف کے خلاف ایس سی، ایس ٹی ایکٹ و ریاگنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور اب اس کیس میں مزید تبدیلی کی جائیگی۔ متوفی میڈیکل طالبہ کا پوسٹ مارٹم گاندھی ہاسپٹل میں کیا جائیگا اور بعد ازاں اس کی نعش کو آبائی مقام کوڑاکنڈلہ منڈل جنگاؤں لے جایا جائے گا۔ریاستی وزیر پنچایت راج ایرابلی دیاکر راؤ نے آج بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے میڈیکل طالبہ پریتی کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ورثاء کو 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کریگی ۔ ب