نامپلی اسمبلی حلقہ مجلس کی تجربہ گاہ، ٹکٹ کے اہم دعویدار اچانک تبدیل

   

یاسر عرفات کے بعد جعفر حسین معراج کی یاقوت پورہ منتقلی، غیر کارکرد افراد کی پرانے شہر منتقلی پر کارکنوں میں ناراضگی
حیدرآباد 7 نومبر (سیاست نیوز) نامپلی اسمبلی حلقہ مجلسی قیادت کے لئے تجربہ گاہ سے زیادہ کچھ نہیں جہاں ہر الیکشن سے قبل ٹکٹ کا لالچ دے کر قائدین کو تیار کیا جاتا ہے اور لمحہ آخر میں نئے چہرے کو میدان میں اُتارا جاتا ہے۔ نامپلی اسمبلی حلقہ دراصل تعلیم یافتہ اور باشعور رائے دہندوں کا علاقہ ہے جہاں غیر کارکرد افراد کو زیادہ عرصہ تک برداشت نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 3 انتخابات میں مقامی طور پر مقبولیت رکھنے والے فیروز خان کی عوام میں تائید ضرور تھی لیکن مجلس نے اپنے انتخابی حربوں اور خاص طور پر ’’خیر و برکت‘‘ کے ووٹ سے کامیابی حاصل کی۔ گزشتہ 10 برسوں میں نامپلی سے مجلس کے رکن اسمبلی جعفر حسین معراج کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں تھے۔ اسمبلی انتخابات سے قبل مجلسی قیادت نے نامپلی کے بارے میں تقریباً 4 علیحدہ سروے کرائے تاکہ رائے دہندوں کے رجحان کا پتہ چل سکے۔ چاروں سروے بھی مجلس کی کامیابی پر سوال کھڑے کررہے تھے اور اِس بات کا انکشاف ہوا کہ عوام موجودہ رکن اسمبلی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ اسے محض اتفاق کہا جائے یا پھر سیاسی حکمت عملی کہ مجلسی قیادت نے ہمیشہ اِس حلقہ میں کئی دعویداروں کی حوصلہ افزائی کی اور الیکشن سے عین قبل کسی نئے چہرے کو پیش کردیا گیا۔ صدر مجلس اسد اویسی سے قربت رکھنے والے یاسر عرفات کو نامپلی کے امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے لیکن 2014 ء میں جعفر حسین معراج کو ٹکٹ دیا گیا۔ 2018 ء میں جب ٹکٹ کی تقسیم کا مرحلہ آیا تو یاسر عرفات کو یاقوت پورہ اسمبلی حلقہ کا انچارج مقرر کرتے ہوئے دوسری مرتبہ جعفر حسین معراج کو موقع دیا گیا۔ مجوزہ انتخابات سے قبل نامپلی کے لئے سابق میئر ماجد حسین کو موجودہ رکن اسمبلی جعفر حسین معراج کے مساوی کھڑا کیا گیا اور دونوں کو ایک ساتھ عوام کے درمیان جانے کی ہدایت دی گئی تاکہ عوامی رجحان کا پتہ چل سکے۔ امیدواروں کے اعلان تک بھی نامپلی میں صدر مجلس نے دونوں قائدین کو ایک ساتھ عوام کے درمیان پیش کیا اور اُن پر اپنے بااعتماد پرسنل اسسٹنٹ کو نگرانکار مقرر کردیا تاکہ دونوں کی سرگرمیوں سے متعلق پل پل کی رپورٹ مل سکے۔ یاسر عرفات کے بعد جعفر حسین معراج کو اچانک نامپلی کے ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے پرانے شہر کے یاقوت پورہ اسمبلی حلقہ کو منتقل کردیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جعفر حسین معراج کو ٹکٹ سے محروم کرنے کے بجائے پرانے شہر کے حلقہ سے امیدوار بنانا پارٹی کیڈر کو منظور نہیں ہے اور حلقہ یاقوت پورہ کے ابتدائی صدور اور کارکنوں کی برہمی دور کرنے اور جعفر حسین معراج کے حق میں کام کرنے کے لئے راضی کرنے میں حلقہ کے انچارج یاسر عرفات کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ یاسر عرفات وہی ہیں جنہیں نامپلی سے ٹکٹ کے بجائے یاقوت پورہ انچارج مقرر کیا گیا۔ نئے شہر کے باشعور رائے دہندوں پر مشتمل نامپلی اسمبلی حلقہ کا نتیجہ اِس مرتبہ چونکا دینے والا ہوسکتا ہے کیوں کہ بار بار دعویداروں کی تبدیلی نے کیڈر اور عوام میں ناراضگی پیدا کردی ہے۔