نتن یاہو پر بھی مغربی دباؤ، فلسطینیوں کیخلاف قانون کو روکنے پر مجبور

   

تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے ’’ایسوسی ایشنز لا‘‘ کو منظور کرنے کے جاری عمل کو روک دیا ہے۔ اس قانون کا مقصد اسرائیل میں بائیں بازو کی تنظیموں اور عرب تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنا اور مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں فلسطینیوں فلسطینیوں کی خدمت کیلئے سرگرمیاں کرنے والی تنظیموں کو روکنا تھا۔ تاہم اب نیتن یاہو نے اپنی حکومت کے ایجنڈے سے متعلق اس آئٹم کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔اپنی حکومت میں شامل انتہا پسندوں کے اعتراض کی وجہ سے نیتن یاہو نے صہیونیت اور تصفیہ کے حق میں دیگر بل پیش کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔تل ابیب کے سیاسی ذرائع نے بتایا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ، جرمنی، فرانس اور دیگر ملکوں نے نتن یاہو اور وزیر خارجہ ایلی کوہن سے واضح درخواست کی ہے کہ وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی میں اس قانون کی منظوری کو روکا جائے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی اور جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیوربوک نے کوہن سے ذاتی طور پر رابطہ کیا اور درخواست کی کہ اس قانون کی منظوری کے عمل کو ختم کردیا جائے۔ تل ابیب میں ایک سفارتی اہلکار نے بتایا ہے کہ جرمنی اس بل سے سب سے زیادہ پریشان نظر آیا اور اس نے اس حوالے سے مختلف ذرائع سے پیغامات پہنچائے ہیں۔ تل ابیب میں جرمنی کے سفیر اسٹیفن سائپرز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ قانون کا مسودہ ایک بجلی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سول سوسائٹی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تل ابیب میں سویڈن کے سفیر ایرک اولین ہاگ نے لکھا کہ اسرائیل کا دوست ہونے کے ناطے میں نے اسوسی ایشنز کا مسئلہ حکام کے سامنے اٹھایا ہے اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ ایسا قانون نافذ نہ کریں جو جمہوریت اور لبرل اقدار کے خلاف ہو۔