نفرت کے ماحول میں جموں کے ہندو خاندان کی مثالی مذہبی رواداری

,

   

مکان کے انہدام سے پریشان مسلم جرنلسٹ کو نئے مکان کا تحفہ،
سوشل میڈیا میں ہندو خاندان کے جذبہ کی ستائش

حیدرآباد ۔ 28۔نومبر (سیاست نیوز) جموں و کشمیر میں مسلم طلبہ کے ایم بی بی ایس میں داخلوں پر بی جے پی اور سنگھ پریوار کی جانب سے نفرت کی سیاست کے دوران جموں کے ایک ہندو خاندان نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد کی غیر معمولی مثال قائم کرتے ہوئے ایک مسلم جرنلسٹ کی بروقت مدد کرتے ہوئے انہیں مکان کا تحفہ پیش کیا۔ گزشتہ دس برسوں میں بی جے پی اور اس کی محاذی تنظیموں کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کے لئے ہر ممکن سازش کی جارہی ہے لیکن جموں کے ہندو خاندان نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگی کے موجودہ ماحول میں ایک دوسرے کی مدد کرنا آسان نہیں۔ ایسے میں ایک مسلم جرنلسٹ افراز احمد ڈینگ کو مکان کا تحفہ ایک ہندو خاندان نے ایسے وقت پیش کیا جب جموں ڈیولپمنٹ اتھاریٹی نے غیر مجاز قبضہ کا الزام عائد کرتے ہوئے تین مرلہ مکان کو منہدم کردیا ۔ افراز احمد بلدی حکام کی جانب سے اپنے مکان کے انہدام سے پریشان تھے، ایسے میں مقامی ہندو ڈوگرا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کلدیپ کمار شرما نے 151.25 مربع گز پر واقع پانچ مرلہ مکان تحفہ میں پیش کرتے ہوئے وادی میں ہندو مسلم اتحاد کی ایک مثال قائم کی ہے۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر ویڈیو تیزی سے وائرل ہوا جس میں ہندو خاندان کو مکان کے دستاویزات مسلم صحافی کو پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو تیز ی سے وائرل ہورہا ہے اور عوام کی جانب سے اس اقدام کی بھرپور ستائش کی جارہی ہے ۔
ویڈیو میں ہندو خاندان اور مسلم صحافی کی جانب سے جموں ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی انہدامی کارروائی کی مذمت کی گئی ہے۔ جموں ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حکام نے جمعرات کے دن تقریباً 800 ملازمین پولیس کے ہمراہ پہنچ کر افراز احمد کے مکان کو منہدم کردیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مکان غیر مجاز طور پر قبضہ کی گئی اراضی پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ افراز احمد نے بتایا کہ حکام نے کارروائی کے دوران انہیں فون کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی۔ ویڈیو میں پولیس کی نگرانی میں مکان کو منہدم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ افراز احمد ڈینگ کا کہنا ہے کہ سچائی کہنے پر حکام نے ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نظم و نسق صحافیوں اور سماجی جہد کاروں کو سبق سکھانا چاہتا ہے جو سنجیدگی اور دیانتداری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ ان بھگت ہیں تو محفوظ ہیں اور اگر سچائی کہیں گے یا دکھائیں گے تو یہی حشر ہوگا۔ مسلم جرنلسٹ نے دعویٰ کیا کہ ان کا خاندان تقریباً 40 برسوں سے اس مکان میں مقیم تھا اور حکام نے انہیں کارروائی سے قبل کوئی نوٹس تک نہیں دی۔ سیول سوسائٹی کے نمائندوں نے انہدامی کارروائی کی مذمت کی ، تاہم ایک ہندو خاندان نے فوری طور پر انسانی ہمدردی اور مذہبی رواداری کی مثال قائم کرتے ہوئے متاثرہ مسلم جرنلسٹ کی مدد کی ہے۔ سوشیل میڈیا پر عوام نے تبصرہ کیا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی قائدین کے غیر قانونی مکانات اور جائیدادوں پر کوئی کارر وائی نہیں کی جاتی جبکہ ایک مسلم صحافی کو سچائی بیان کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔