نمائش سوسائیٹی کیلئے فائر این او سی کا حصول لازمی نہیں

   

ہائیکورٹ میں محکمہ فائر کا حلف نامہ ۔ چیف سکریٹری و دیگر کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت

حیدرآباد۔ 10 جون (سیاست نیوز) نمائش سوسائٹی کے خلاف داخل کی گئی درخواست مفادِ عامہ کی آج سماعت ہوئی جس کے بعد کارگذار چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ راگھویندر سنگھ چوہان نے حکومت کو اپنا جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ جنوری میں نمائش کے دوران پیش آئے مہیب آتشزدگی واقعہ کے بعد شہر کے ایک وکیل خواجہ اعجازالدین نے مفادِ عامہ کے تحت درخواست داخل کی تھی۔ نمائش سوسائٹی کے ارکان کے خلاف کارروائی کرنے فائر این او سی کے حصول کو لازمی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ 20 فروری کو کارگذار چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری تلنگانہ، پرنسپل ہوم سیکریٹری کے علاوہ ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ، پولیس کمشنر حیدرآباد، کمشنر جی ایچ ایم سی، محکمہ فائر اور دیگر محکمہ جات کو ہدایت جاری کرتے ہوئے اس ضمن میں اپنا جوابی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں محکمہ فائر نے اپنا جوابی حلف نامہ داخل کیا اور عدالت کو بتایا کہ نمائش سوسائٹی تلنگانہ فائر سیفٹی ایکٹ کے دائرۂ کار میں نہیں آتی لہذا فائر این او سی لازمی نہیں۔ کمشنر جی ایچ ایم سی اور نمائش سوسائٹی نے اپنا جوابی حلف نامہ داخل کیا لیکن دوسرے فریقین داخل کرنے سے قاصر رہے۔ آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ خواجہ اعجازالدین نے اپنا استدلال پیش کرتے ہوئے کہا کہ نمائش سوسائٹی کو فائر این او سی جاری کرنے بے حد ضروری ہے چونکہ لاکھوں کی تعداد میں عوام نمائش کا مشاہدہ کیلئے آتے ہیں اور جاریہ سال جنوری میں نمائش کے دوران لاپرواہی کے نتیجہ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس کے سبب تاجرین کو لاکھوں روپئے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سرکاری وکیل نے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے بجائے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل اس معاملے میں بحث کرنے تیار ہے، لیکن عدالت نے چیف سیکریٹری اور دیگر اہم فریقین کو اندرون دو ہفتہ اپنا جوابی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا اور اس کیس کی اگلی سماعت 26 جون کو مقرر کی۔