اونٹ کے کوہان کے طرز پر بال نہ رکھنے کی تاکید، والدین اور سرپرست اپنے بچوں پر توجہ دیں
حیدرآباد۔26اگسٹ(سیاست نیوز) نبی اکرم ﷺ کے احکامات کی مخالفت کے بعد کیا کوئی مسلمان باقی رہ سکتا ہے؟یہ ایک انتہائی اہم اور حساس مسئلہ ہے اور اس مسئلہ پر کوئی دورائے نہیں ہوسکتی لیکن عام طور پر جو حالات دیکھے جا رہے ہیں ان کے مطابق نوجوان نسل میں احکام رسولﷺ کی صریح خلاف ورزی کا رجحان عام ہوتا جا رہاہے اور ان نوجوانوں کے سرپرست یا والدین بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔شہر حیدرآباد میں یہ بات دیکھی جا رہی ہے کہ نوجوان نسل فیشن کے نام پر احکام مصطفی ﷺ کی صریح خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے جا رہے ہیں اور احادیث میں جو احکام صادر کئے گئے ہیں ان احکام کی خلاف ورزی کو فیشن کا نام دیا جا رہاہے۔ نبی اکرم ﷺ نے امت کے مردو ں کو عورتوں کی طرح زیب و زینت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے اور بال کٹانے کے سلسلہ میں واضح احکام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اونٹ کے کوہان کی طرح بال نہ رکھے جائیں بلکہ بالوں کو یکساں تراشا جائے یا زلف رکھے جائیں ۔ ان احکامات کے سلسلہ میں واضح احادیث موجود رہنے کے بعد بھی نوجوانوں کی بڑی تعداد اس طرح سے بال بنانے لگی ہے جس طرح بال رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو راہ راست پر لانا اور ان میں اچھے برے کی تمیز پیدا کرنا والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے لیکن والدین اور سرپرستوں کی جانب سے ان کو فراہم کی جانے والی چھوٹ کے سبب یہ نوجوان مزید تباہی شکار ہونے لگے ہیں اور ان نوجوانوں کی جانب سے احکام نبوی کی خلاف ورزی کا وبال صرف ان پر نہیں ہوگا بلکہ امت کے ذمہ داروں اور والدین و سرپرستوں پر بھی ہوگا کیونکہ نوجوان ممکن ہے نادانستہ طور پر عدم معلومات کے سبب ایسا کر رہے ہوں لیکن جو بڑے یہ دیکھ کر خاموش ہیں وہ بھی اس صورتحال کے لئے برابر کے ذمہ دار قرار دئیے جائیں گے۔ فیشن کے نام پر جس طرح سے بال کٹوائے جا رہے ہیں وہ طریقہ کار قطعی غیر اسلامی ہے اور اس غیر اسلامی عمل پر نوجوانوں کو تنبیہ کرنا اور روکنا ہر شخص بالخصوص والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے ۔ بعض نوجوانو ںکے سرپرستوں اور والدین کا کہناہے کہ ابھی عمر ہی کیا ہے آئندہ جلد تبدیلی آئے گی اور وہ سدھر جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہے بعض دور اندیش ذمہ داروں کا کہناہے کہ یہ ایک منظم سازش کا حصہ ہے اور نوجوانوں کوراہ راست سے ہٹانے اور ان میں فیشن کے نام پر غیر اسلامی حرکتوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نوجوانوں کو اگر ابتداء میں ہی اس بات سے واقف کروایاجائے کہ وہ جس انداز کے بال کٹوارہے ہیں وہ طریقہ غیر اسلامی ہے اور نبی اکرمﷺ نے اس طرح سے بال کاٹنے کی ممانعت فرمائی ہے تو شائد وہ ایسا کرنے سے باز رہیں گے لیکن ان نوجوانو ںکو ایساکرنے سے روکنے کے لئے باضابطہ مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب اس طریقہ کے بال کٹوانا فیشن ہوچکا ہے۔نوجوان نسل میں پیدا ہو رہے بگاڑ کو دور کرنے اور انہیں شریعت سے واقف کرواتے ہوئے معمولی غلطیوں کو بھی درست کرنے کی بنیادی طور پر کوشش کرنی چاہئے ۔ نوجوان جس انداز کے بال بنا رہے ہیں انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی جانور کی نقل کر رہے ہیں جبکہ اس طرح کے بال بنانے اور رکھنے کی سخت ممانعت ہے اس کے باوجود والدین کی اس امر سے اختیار کی جانے والی غفلت نوجوانوں میں دیگر برائیوں کا سبب بن سکتی ہے۔