نوٹ برائے ووٹ مقدمہ ، چندرا بابو نائیڈو کو سپریم کورٹ سے راحت

   

سی بی آئی تحقیقات سے متعلق درخواستیں مسترد، درخواست گذار سابق رکن اسمبلی پر سپریم کورٹ کی برہمی

حیدرآباد۔/21 اگسٹ، ( سیاست نیوز) نوٹ برائے ووٹ مقدمہ میں چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو کو سپریم کورٹ سے اس وقت بڑی راحت ملی جب مقدمہ میں چندرا بابو نائیڈو کو ماخوذ کرنے کیلئے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے سابق رکن اسمبلی رام کرشنا ریڈی کی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔ سابق رکن اسمبلی نے چندرا بابو نائیڈو کو مقدمہ میں ماخوذ کرنے کے علاوہ تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کیلئے دو علحدہ درخواستیں داخل کی تھیں۔ اگرچہ یہ درخواستیں طویل عرصہ قبل داخل کی گئیں لیکن سپریم کورٹ نے آج اس کی سماعت کرتے ہوئے مسترد کردیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقامی جذبہ کی تکمیل کیلئے عدالت کو پلیٹ فارم نہیں بنایا جاسکتا۔ عدالت نے درخواست گذار سے کہا کہ وہ سیاسی امور کیلئے کوئی اور پلیٹ فارم کا انتخاب کریں۔ جسٹس سندریش کی زیر قیادت بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے سابق رکن اسمبلی کی دونوں درخواستوں کو خارج کردیا۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت ان کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس اروند کمار پر مشتمل بنچ نے سماعت کے موقع پر درخواست گذار کے خلاف سخت ریمارکس کئے۔ عدالت نے کہا کہ اس مقدمہ میں ابھی تک دو چارج شیٹس داخل کئے جاچکے ہیں لہذا اس مرحلہ پر عدالت کی جانب سے مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ بے بنیاد معاملات کو عدالت سے رجوع کرتے ہوئے عدلیہ کا وقت ضائع کرنا درست نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست گذار کی سیاسی وابستگی کے بارے میں سوال کیا۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل نے بتایا کہ 2014 سے حالیہ اسمبلی انتخابات تک رام کرشنا ریڈی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی رہے۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل سدھارتھ لوترا نے بتایا کہ رام کرشنا ریڈی اہم اپوزیشن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ عدالت نے درخواست گذار سے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو الیکشن لڑ کر دوبارہ منتخب ہوسکتے ہیں لیکن سیاسی انتقامی کارروائی کیلئے عدالت سے رجوع ہونا ٹھیک نہیں۔ درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ نوٹ برائے ووٹ معاملہ پر سپریم کورٹ میں اور بھی درخواستیں زیر التواء ہیں۔ درخواست گذار پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور دونوں درخواستوں کو خارج کردیا۔1