نیلوفر دواخانے میں مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں

   

آئی سی یو میں ایک بیڈ پر 3 مریض، ڈاکٹرس و اسٹاف کا غیر ذمہ دارانہ سلوک
حیدرآباد 26 اگسٹ (شاہنواز بیگ کی خصوصی رپورٹ) شہر حیدرآباد کے دونوں علاقے ان دونوں علاقے وبائی امراض کی لپیٹ میں ہیں۔ جس سے بڑے چھوٹے تمام افراد متاثر ہورہے ہیں۔ خاص کر ڈینگو اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریوں کا شکار ہوکر سرکاری اور خانگی دواخانوں میں زیرعلاج ہیں۔ خاص طور پر عثمانیہ دواخانہ میں جہاں عموماً ایک ہزار کے قریب مریض رجوع ہوئے تھے، اچانک دو تا ڈھائی ہزار مریض رجوع ہونے لگے ہیں۔ اسی طرح نیلوفر دواخانہ میں کمسن بچوں کا زبردست اضافہ درج کیا گیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ آئی سی یو میں بھی ایک ایک بیڈ پر 3 ، 3 مریضوں کو رکھا جارہا ہے۔ اگرچہ ان کا علاج بھی ڈھنگ سے نہیں کیا جارہا ہے۔ اس حوالہ سے اگر مریض کے افراد خاندان مریض کے بارے میں ڈاکٹر سے کوئی سوال کرتا ہے تو انھیں ڈھکیل کر باہر کرتے ہوئے سکیورٹی گارڈ کے حوالہ کردیا جارہا ہے۔ ایک شکایت یہ بھی ہے کہ آئی سی یو کی پہلی اور دوسری منزل پر موجود اسٹاف ٹک ٹاک ویڈیو دیکھنے میں مصروف رہتا ہے۔ اس بات کا انکشاف اُس وقت ہوا جب نمائندہ سیاست شاہنواز بیگ حالات کا جائزہ لینے نیلوفر ہاسپٹل گئے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بارے میں پرنسپال سکریٹری میڈیکل ہیلتھ اور وزیر صحت ایٹالہ راجندر کو بھی چاہئے کہ ان دواخانوں کا دورہ کریں تاکہ عوام کو ہونے والی دشواریوں کا انھیں اندازہ ہوسکے۔