مرکز کی تجویز سے بیشتر ریاستوں کا اتفاق ، ایمسیٹ ختم ہوگا ، مینجمنٹ کوٹہ کی نشستوں کے لیے سودے بازی پر روک
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مستقبل میں ایمسیٹ کا انعقاد ریاستوں کے اختیارات میں رہنے کا امکان نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت نیٹ کے طرز پر قومی سطح پر تمام ریاستوں میں انجینئرنگ کے داخلوں کا عمل ایک ہی امتحان کے ساتھ انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اس تجویز کا مسودہ مرکزی وزارت تعلیم نے ملک کے تمام ریاستوں کو روانہ کیا ہے جس پر بیشتر ریاستوں نے اتفاق کرتے ہوئے منظوری دینے کی اطلاعات وصول ہوئی ہیں اس مسئلہ پر مزید شعور بیداری کے لیے مرکز کی جانب سے ایک سمینار کا بھی انعقاد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ سنٹرل یونیورسٹیز میں ڈگری ، پی جی داخلوں کے لیے کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹسٹ ( سی یو ای ٹی ) کا تجربہ کامیاب رہا ہے جس کے بعد قومی سطح پر انجینئرنگ کالجس میں داخلوں کے لیے کامن انٹرنس ٹسٹ کے انعقاد پر مرکزی حکومت اپنی توجہ مرکوز کرچکی ہے ۔ چند عرصہ سے ملک میں آئی آئی ٹی ، این آئی ٹیز ، ٹریپل آئی ٹیز کے علاوہ مرکزی حکومت کے فنڈز سے خدمات انجام دینے والے ٹکنیکل تعلیمی اداروں کے انجینئرنگ کورسیس میں داخلوں کے لیے مرکزی حکومت جے ای ای مینس امتحان کا انعقاد کررہی ہے ۔ جے ای ای مینس میں کوالیفائی ہونے والے امیدواروں کو آئی آئی ٹی میں داخلوں کے لیے جے ای ای اڈوانسڈ امتحان کا انعقاد کررہی ہے ۔ اسی طرز پر ریاستوں کے انجینئرنگ کالجس کے لیے مشترکہ کامن ٹسٹ امتحان اور کونسلنگ کا اہتمام کرنے کی 2016 میں تجویز تیار کی گئی تھی ۔ مختلف وجوہات کے باعث اسی وقت اس تجویز پر عمل آوری نہیں ہوسکی 18 اپریل کو بھونیشور میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ( اے آئی سی ٹی ای ) یو جی سی ، آئی آئی ٹیم کے ڈائرکٹرس ، گورننگ باڈی کے صدور نشین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے انجینئرنگ کامن ٹسٹ کے انعقاد پر تبادلہ خیال کیا تاہم مختلف انجینئرنگ کالجس نے اس تجویز پر عمل آوری کے لیے دو سال کا وقت طلب کیا ہے ۔ اگر نیٹ کی طرح انجینئرنگ میں داخلوں کا عمل قومی سطح پر منعقد کیا جاتا ہے تو نشستوں پر داخلوں کا عمل قومی سطح کے ادارے کے حوالے ہوجانے پر ویب کی بنیاد پر داخلے دئیے جائیں گے ۔ مینجمنٹ کوٹہ بھی کونسلنگ کے ذریعہ پر کیا جائے گا ۔ یونیورسٹیز سے الحاق کا نظام ، اے آئی سی ٹی ای قواعد کے مطابق ہوجائے گا ۔ کالجس میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی ، معیاری فیکلٹی ، کمپیوٹر بنیاد پر کورسیس کے تدریس کا عمل مرکز کے اختیارات میں چلا جائے گا ۔ ابھی تک انجینئرنگ کالجس کی تنقیح یونیورسٹی عہدیدار کرتے تھے اب قومی سطح کی ٹیمیں جانچ کرنے کے بعد منظوری دینے پر ہی کالجس کو الحاق حاصل ہوگا ۔ اس سسٹم کے عمل میں آنے سے مینجمنٹ کوٹہ کی نشستوں کے لیے جو سودے بازی ہورہی ہے وہ ختم ہوجائے گی ۔۔ ن