سپریم کورٹ کے حکم کے بعداین ٹی اے کا اقدام
نئی دہلی: نیٹ پر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد این ٹی اے نے نیٹ یو جی طلباء کے مرکز اور شہر واری نتائج کو آن لائن اپ لوڈ کر دیا ہے۔ نتائج اپلوڈ کرنے کے لئے ہفتہ کی دوپہر 12 بجے تک کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے واضح کیا تھا کہ ان نتائج میں طلباء کی رازداری کا خیال رکھا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ میں نیٹ تنازعہ کے معاملے پر اگلی سماعت 22 جولائی کو ہونے والی ہے۔خیال رہے کہ 5 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ۔یو جی امتحان کے شہر اور مرکز واری نتائج این ٹی اے نیٹ یو جی کی سرکاری ویب سائٹ ’https://exams.nta.ac.in/NEET‘ پر اپلوڈ کئے گئے ہیں۔ اسے چیک کرنے کے لیے، آپ کو ویب سائٹ کے ہوم پیج پر ‘NEET (UG) RESULT 2024 CITY/CENTRE WISE’ (نیٹ یو جی کے شہر/مرکز وار نتائج) پر کلک کرنا ہوگا۔نیٹ یو جی امتحان تنازعہ کیس میں طلباء کے وکیل اور عرضی گزار دھیرج سنگھ نے کہا تھا کہ امتحان سے پہلے ہی پیپر لیک ہو گیا تھا اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ایسے میں پیپر لیک کس حد تک ہوا؟ کیا پیپر لیک صرف کچھ مراکز پر ہوا؟ یا پیپر لیک بڑے پیمانے پر ہوا؟ لہذا، یہ ضروری ہے کہ این ٹی اے مکمل نتائج جاری کرے تاکہ مکمل ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا سکے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے ہفتہ کو شہر اور امتحانی مرکز کی سطح پر این ای ای ٹی یوجی-2024 کے امتحان میں شامل ہونے والے تمام امیدواروں کے نتائج کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردیا۔ان تمام امیدواروں کے نتائج جنہوں نے انڈرگریجویٹ میڈیکل اور دیگر کورسز میں داخلے کیلئے 5 مئی کو منعقدہ قومی اہلیت کم داخلہ ٹیسٹ 2024 میں شرکت کی تھی کو طلبہ کی شناخت ظاہر کیے بغیر شہر اور امتحانی مرکز کی سطح پر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیے گئے ہیں۔سپریم کورٹ نے نیٹ کیمنسوخی اور بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں پرکئی گھنٹوں تک دلائل سنے۔مانا جا رہا ہے کہ 24 جولائی سے نیٹ کونسلنگ شروع ہو نے سے پہلے سپریم کورٹ بڑا فیصلہ سنا سکتی ہے ۔