وارانسی میں سماج وادی پارٹی کی کامیابی، بی جے پی کیلئے خطرے کی گھنٹی!

,

   

اکھلیش یادو کی بڑھتی مقبولیت سے سیاسی ایوانوں میں ہلچل، 2027 کے اسمبلی انتخابات پر نظریں مرکوز

لکھنؤ۔29؍اکتوبر ( ایجنسیز )اتر پردیش کی سیاست میں سماج وادی پارٹی کی کامیابی، بالخصوص وارانسی جیسے اہم حلقے میں بہتر مظاہرہ، جہاں سے وزیر اعظم مودی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں، بی جے پی کیلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔ ان نتائج نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی قلعہ ہمیشہ ناقابلِ تسخیر نہیں رہتا اور عوامی رجحانات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔اکھلیش یادو کی قیادت میں سماج وادی پارٹی کی سیاسی حکمت عملی اور پچھڑے طبقات، دلتوں اور اقلیتوں پر مشتمل ’پی ڈی اے‘ فارمولے کو پارٹی کی بڑھتی ہوئی سیاسی قوت کا ایک اہم سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد اگر یہی حکمت عملی مقامی سطح پر بھی اپنا اثر برقرار رکھتی ہے تو آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کیلئے چیلنج مزید سخت ہو سکتا ہے۔سیاسی حلقوں میں ان نتائج کو 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ سماج وادی پارٹی کیلئے یہ کامیابی کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے اور اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانے کا موقع ہے جبکہ بی جے پی کیلئے اپنے انتخابی منصوبوں اور عوامی رابطے کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کا وقت ہے۔اتر پردیش کی سیاست کی اہمیت محض ایک ریاست تک محدود نہیں کیونکہ یہاں کے انتخابی نتائج قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ دہلی کے اقتدار کا راستہ لکھنؤ سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وارانسی سے آنے والے سیاسی اشاروں کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اکھلیش یادو اس سیاسی برتری کو مستقل عوامی حمایت میں تبدیل کر پاتے ہیں یا بی جے پی اپنے مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور انتخابی حکمت عملی کے ذریعے دوبارہ اپنی گرفت مستحکم کرتی ہے۔ فی الحال اتنا ضرور ہے کہ اتر پردیش کی سیاست میں 2027 کی انتخابی بساط بچھنے لگی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کے امکانات ہیں۔