واٹس ایپ کی تصاویر پہلے پیگاسیس دیکھ رہا ہے بعد میں آپ!

,

   

اسرائیلی کمپنی کے پیگاسیس اسپائی ویئر سے تہلکہ ، کیا واٹس ایپ نمبر ات محفوظ ہیں ؟

حیدرآباد۔ 22۔ڈسمبر(سیاست نیوز) واٹس ایپ پر روانہ کئے جانے والے پیامات اور تصاویر کس قدر محفوظ ہیں اور انہیں روانہ کرنے والے اور جنہیں روانہ کیا جارہاہے اس کے علاوہ کوئی اور بھی دیکھ سکتا ہے!امریکی عدالت میں زیر دوراں مقدمہ میں اس بات کی توثیق ہوچکی ہے کہ واٹس ایپ پر روانہ کئے جانے والے پیامات اور تصاویر کو تیسرا شخص بھی دیکھ سکتا ہے ۔پیگاسیس اسپائی وئیر نامی سافٹ وئیر نے ملک بھر میں تہلکہ مچایا تھا اور امریکہ میں سال 2019میں ایک مقدمہ بھی دائر کیاگیا تھا جس کا فیصلہ گذشتہ یوم ہوا ۔ واٹس ایپ سے روانہ کی جانے والی تصاویر ‘ پیغام اور ارسال کئے جانے والے وائس نوٹ کو بھی تیسرے شخص کی جانب سے دیکھا پڑھا اور سنا جاسکتا ہے ۔ اسرائیلی کمپنی کی جانب سے تیار کردہ اس سافٹ ویئر کے استعمال کے ذریعہ حکومت کی ایجنسیوں نے سرکردہ افراد ‘ سیاستدانوں‘ تاجرین ‘ سرمایہ کاروں‘ کے علاوہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے لئے استعمال کیا لیکن استعمال کرنے والوں کی جانب سے کن موبائیل فونس میں اس سافٹ وئیر کو داخل کیا گیا ہے اس بات کی توثیق کرنا مشکل ہے کیونکہ جن عہدیداروں اور محکمہ جات کے پاس اس سافٹ وئیر کے استعمال کی رسائی ہے ان کی جانب سے اس کا کس طرح سے استعمال کیا گیا اس بات کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی یہ بات وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ واٹس ایپ کمپنی کے ذمہ دار اس پلیٹ فارم کے استعمال کے ذریعہ ارسال کئے جانے والے پیغام اور تصاویر کو نہیں دیکھ پاتے۔ ہندستانی معاشرہ بالخصوص نوجوانوں میں واٹس ایپ پر جس طرح کے تبادلہ خیال ہوا کرتے ہیں اس سے کوئی واقف نہیں ہے ایسا نہیں کیونکہ واٹس ایپ کو محفوظ تصور کرتے ہوئے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی ایسی تصاویر بھی اس پلیٹ فارم کے ذریعہ روانہ کرتے ہیں جو کہ قابل اعتراض ہوتی ہیں ان تصاویر اور پیامات کو ارسال کرنے والوں کی جانب سے اس گمان میں روانہ کیاجاتا ہے کہ وہ جنہیں روانہ کر رہے ہیں اور ان کے درمیان ہونے والی اس بات چیت یا تصاویر کا تبادلہ ان کے دونوں کے درمیان ہی ہوتا ہے جبکہ کمپنی جو کہ تیسرے فریق کے طور پر ہوتی ہے وہ ان پیامات کو جو کہ کوڈ کے ذریعہ دوسروں تک پہنچائے جاتے ہیں اور یہ باور کیا جاتا ہے کہ یہ پیامات وصول کرنے والوں تک محفوظ طریقہ سے پہنچ جاتے ہیں لیکن کمپنی میں خدمات انجام دینے والے ملازمین جو کہ تکنیکی مہارت کے حامل ہوتے ہیں وہ ان پیامات کو آرام سے ڈی کوڈ کرتے ہوئے انہیں دیکھ ‘ پڑھ اور سن سکتے ہیں۔ واٹس ایپ کے ذریعہ پیام رسانی کو محفوظ تصور کرنے والے بالخصوص اہم عہدوں پر فائز عہدیداروں نے کافی عرصہ قبل واٹس ایپ کے استعمال کو محدود کردیا تھا لیکن اب جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کے بعد کہا جار ہاہے کہ واٹس ایپ کی مقبولیت میں کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ ہندستانی شہریوں کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے نوجوان بالخصوص علحدہ ملکوں میں رہتے ہوئے زندگی بسرکرنے والے خاندانوں بالخصوص شوہر اور بیوی کے درمیان ہونے والے پیامات کے تبادلہ اور وائس نوٹ کے علاوہ تصاویر کے محفوظ ہونے کے متعلق دریافت کئے جانے پر ماہرین کا کہناہے کہ عام طور پر تمام پیام یا تصاویر تک رسائی حاصل نہیں کی جاتی لیکن ان لوگوں کے واٹس ایپ تک ضرور رسائی حاصل کی جاتی ہے جو معاشرہ میں اپنا کوئی مقام رکھتے ہیں اور بااثر تصور کئے جاتے ہیں۔ اسرائیلی کمپنی پیگاسیس نے این ایس او کے ذریعہ واٹس ایپ تک ایسے پیامات کے ذریعہ پیگاسیس روانہ کیا ہے جس کو کھولنے کے علاوہ صارفین کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اور وہ ان پیامات کو کھولنے کے بعد اپنے واٹس ایپ کو محفوظ رکھنے کے متحمل نہیں رہے بلکہ جن فون نمبرات میں پیگاسیس کو انسٹال کیا جاچکا ہے ان فون نمبرات کے واٹس ایپ نمبر تو قطعی طور پر محفوظ نہیں ہیں کیونکہ ان نمبرات سے پیگاسیس ساف وئیر کو ان انسٹال کس طرح کیا جائے اس تکنیک پر تاحال کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا جا رہاہے اور نہ ہی ماہرین اس مسئلہ پر اب تک گفتگو کر رہے ہیں۔3