حج ہاوز اور شادی خانہ کی اراضی پر حکومت کی نظر، اراضی کی فروخت کی صورت میں احتجاج کی دھمکی
حیدرآباد۔ 19 جولائی (سیاست نیوز) ورنگل اور ہنمکنڈہ سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس کے اقلیتی قائدین نے آج ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ سے ملاقات کی اور بی آر ایس دور حکومت میں حج ہاوز اور شادی خانہ کی تعمیر کے لئے الاٹ کردہ اراضی کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ بی آر ایس دور حکومت کی منظوریوں کے باوجود کانگریس حکومت اراضی واپس لینے کی کوشش کررہی ہے تاکہ اسے فروخت کرتے ہوئے بھاری آمدنی حاصل کی جاسکے۔ ورنگل اور ہنمکنڈہ کے اقلیتی قائدین محمد نعیم، محمد وسیم، محمد مسعود، اقبال احمد، اسمعیل اور خلیل نے تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی حکومت پر اقلیتوں سے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میناریٹی ڈکلیریشن میں کئی وعدے کئے گئے جن پر عام مسلمانوں میں بھوسہ کرتے ہوئے کانگریس کی تائید کی تھی۔ برسر اقتدار آنے کے بعد میناریٹی ڈکلیریشن کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے اپنے بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ علیحدہ تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ علیحدہ ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر کی زیر قیادت بی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کی بھلائی کے لئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا۔ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے لئے اقامتی اسکولس قائم کئے گئے۔ کئی اضلاع میں شادی خانے اور حج ہاوز کے لئے اراضی مختص کی گئی۔ ہنمکنڈہ میں مسلم شادی خانہ کے لئے 25 گنٹہ اراضی اور 5 کروڑ روپے 2022 میں منظور کئے گئے۔ کلکٹر کی جانب سے باقاعدہ احکامات جاری ہوئے لیکن کانگریس برسر اقتدار آتے ہی حکومت نے اراضی حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 10 ایکر اراضی کو واپس حاصل کرتے ہوئے فروخت کرنے کا منصوبہ ہے۔ اراضی کی موجودہ لاگت 10 کروڑ سے زائد ہے۔1؍F