وزراء اور ارکان اسمبلی ای ڈی اور انکم ٹیکس کے نشانہ پر

   

ٹی آر ایس قیادت سے دفاع کی حکمت یا قائدین کی قیادت سے ناراضگی پر چرچے
حیدرآباد۔23۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی وزراء و ارکان اسمبلی جو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا انکم ٹیکس کے نشانہ پر ہیں وہ پارٹی قیادت کو ان کے دفاع کے لئے مجبور کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں یا پارٹی قیادت سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے خود کو بچانے کی فکر میں ہیں! مرکزی ایجنسیوں کے نشانہ پر جو قائدین ہیں ان میں پارٹی قیادت بالخصوص کے سی آر خاندان کے موقف سے شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے کہ کے سی آر کے علاوہ ریاستی وزراء ہریش راؤ‘ کے ٹی راما راؤ یا رکن راجیہ سبھا بی سنتوش کمار کی جانب سے ان قائدین کے دفاع میں کوئی ردعمل ظاہر نہ کئے جانے پر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ پارٹی قیادت ان کاروائیوں پر خاموشی کے ذریعہ نیم رضامندی ظاہر کر رہی ہے۔ 22 نومبر کو ریاستی وزیر لیبر سی ایچ ملا ریڈی کے علاوہ ان کے متعلقین کے مکانات و دفاتر پر کئے گئے انکم ٹیکس دھاؤوں کے ساتھ ہی ریاستی وزیر مسٹر ٹی سرینواس یادو نے شہر میں موجود پارٹی قائدین ‘ ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کا اجلاس تلنگانہ بھون میں طلب کیا اور اس اجلاس کے بعدکہا کہ 27 نومبر تک مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ مسٹر ٹی سرنیواس یادو کے شخصی مددگار کے علاوہ ان کے بھائی اور دیگر کو بھی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے طلب کرتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ان کی جانب سے تلنگانہ بھون میں طلب کئے گئے اجلاس میں پارٹی کے کسی اہم قائد بالخصوص کے ٹی آر‘ ہریش راؤ اور کے کویتا کے شرکت نہ کئے جانے پر کہا جار ہاہے کہ اس اجلاس کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ہوئی جو کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی قائدین کے لئے تکلیف دہ ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اس اجلاس کے بعد 27نومبر تک مستقبل کے لائحہ عمل کی تیاری کے اعلان کے ساتھ ہی چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے شہر حیدرآباد میں موجود وزراء اور پارٹی کے سرکردہ قائدین کو پرگتی بھون طلب کرتے ہوئے ان سے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا لیکن اس سلسلہ میں کوئی اطلاع سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی بلکہ بعض ذرائع سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے مرکزی ایجنسیوں کے نشانہ پر موجود قائدین کو یکا و تنہاء نہ چھوڑنے کا تیقن دیا اور کہا کہ وہ اس مشکل دور میں ان قائدین کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے جو پارٹی کے استحکام میں اہم کردار ادا کئے ہیں۔م