میٹرو ریل مرحلہ II ، موسی ریور فرنٹ پراجکٹ اور ریجنل رنگ روڈ کیلئے مرکز سے فنڈز کی اپیل
دوسرے مرحلہ میں 76 کلو میٹر کا احاطہ،24 ہزار کروڑ کی ضرورت، موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کیلئے 20 ہزار کروڑ درکار، تلنگانہ کو مزید 29 آئی پی ایس عہدیدار الاٹ کئے جائیں
حیدرآباد۔/26 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے مختلف پراجکٹس کیلئے مرکز سے فنڈز کی اجرائی کی درخواست کی۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو کے ہمراہ چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو حیدرآباد میٹرو ریل مرحلہ II، موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ، ریجنل رنگ روڈ، ڈرائی پورٹس اور سیمی کنڈکٹر مشن جیسے پراجکٹس کی تفصیلات سے واقف کراتے ہوئے مرکز سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ میٹرو ریل مرحلہ II پراجکٹ کی مرکز سے منظوری دی جائے تاکہ میٹرو ریل کو میٹرو پولیٹن سٹی کے تمام علاقوں سے مربوط کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم کو بتایا کہ سابق حکومت نے دس سالہ دور حکومت میں میٹرو ریل کے توسیعی منصوبہ پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ میٹرو ریل مرحلہ II کے تحت جملہ 5 راہداریاں ہیں جو 76.4 کلو میٹر پر محیط ہیں۔ پراجکٹ کیلئے 24269 کروڑ کا تخمینہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ پراجکٹ کو فوری منظوری دی جائے۔ وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ہوئی اس ملاقات میں چیف منسٹر نے تلنگانہ کے زیر التواء پراجکٹس اور ریاست کو مزید آئی پی ایس عہدیداروں کی منظوری کی نمائندگی کی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ ریجنل رنگ روڈ کے جنوبی حصہ کے پراجکٹ کو فوری منظوری دی جائے کیونکہ شمالی حصہ میں اراضی کے حصول کا کام 90 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ شمالی اور جنوبی حصہ میں کاموں کی تکمیل کے بعد ہی ریجنل رنگ روڈ مکمل طور پر قابل استعمال ہوگی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ریاستی حکومت جنوبی حصہ میں اراضی کے حصول میں 50 فیصد حصہ داری کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریجنل رنگ روڈ کے متوازی ریجنل رنگ ریل پراجکٹ کا منصوبہ ہے تاکہ تلنگانہ کے زیادہ سے زیادہ علاقوں اور دیگر ریاستوں کو ریلوے سے مربوط کیا جائے۔ چیف منسٹر نے ریجنل رنگ ریل پراجکٹ کی منظوری کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو چاہیئے کہ تلنگانہ میں ریجنل رنگ روڈ کے قریب ڈرائی پورٹ کو منظوری دے تاکہ درآمدات اور برآمدات میں صنعتی اداروں کو سہولت ہو۔ چیف منسٹر نے ریل لائن کے ساتھ گرین فیلڈ روڈ کے منصوبہ سے واقف کرایا تاکہ ڈرائی پورٹ کو آندھرا پردیش کے سی پورٹ سے مربوط کیا جائے۔ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کی تفصیلات سے واقف کراتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد سے گذرنے والی یہ ندی تہذیبی اور روحانی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کیلئے مرکز سے 20 ہزار کروڑ کی مالی امداد پر زور دیا۔ موسی پراجکٹ کے تحت باپو گھاٹ کی ترقی اور عیسیٰ اور موسیٰ ندیوں کو مربوط کرنا، 27 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تعمیر، موسی ریٹیننگ والس کی تعمیر اور دریائے گوداوری کے پانی کو موسی ندی میں شامل کرنے جیسے منصوبے شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ گاندھی سروور پراجکٹ کیلئے محکمہ دفاع کی 222.7 ایکر اراضی تلنگانہ کو منتقل کی جائے۔ انہوں نے ریاست کیلئے مزید آئی پی ایس عہدیداروں کی منظوری کی ضرورت سے واقف کرایا اور کہا کہ سائبر جرائم، ڈرگس ٹریفکینگ کیسس میں اضافہ کے علاوہ ریاست میں شہروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ کو 61 آئی پی ایس کیڈر پوسٹس الاٹ کئے گئے۔ 2015 میں مزید 15 آئی پی ایس کیڈر پوسٹس منظور کئے گئے۔ چیف منسٹر نے مزید 29 آئی پی ایس عہدیداروں کی منظوری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ ریاست کیلئے انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن پراجکٹ کو منظوری دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کی نمائندگیوں پر ہمدردانہ غور کا تیقن دیا۔1