وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں یوتھ کانگریس کا مارچ

   

حکومت بتائیگی گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس۔ نوجوانوں پر بی جے پی ۔ آر ایس ایس آشکار ہوگئے : پرینکا گاندھی

نئی دہلی، 30 جولائی (یو این آئی) یوتھ کانگریس نے جمعرات کو مرکزی وزیرِ داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔تنظیم کے کارکنان نے قومی صدر ادے بھانو چب کی قیادت میں کیرالا ہاؤس سے جنتر منتر تک مارچ نکال کر مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔اس موقع پر چب نے الزام لگایا کہ طالب علموں پر پیلٹ گن اور مہلک طاقت کے استعمال پر حکومت کو جواب دینا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ داخلہ امیت شاہ کو لوک سبھا میں آ کر یہ واضح کرنا چاہیے کہ طالب علموں کے خلاف کارروائی کا حکم کس نے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ کارروائی وزیرِ داخلہ کی ہدایت پر ہوئی ہے تو اس کی جوابدہی طے ہونی چاہیے اور اگر ان کی معلومات کے بغیر ہوئی ہے تو یہ ملک کے اندرونی سلامتی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یوتھ کانگریس طالب علموں کو انصاف دلانے کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالب علموں پر کارروائی کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے اور انصاف کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔یووا کانگریس نے وزیراعظم سے امیت شاہ کو فوری طور پر برطرف کرنے ، معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اعلیٰ سطحی جانچ کرانے اور اخلاقی ذمہ داری طے کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں تنظیم کے کئی قومی عہدیدار اور بڑی تعداد میں کارکنان شامل ہوئے ۔کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا۔ پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے امیت شاہ کو جواب دینا چاہیے ۔ ہمارا یہ بھی سوال ہیکہ وزیرداخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے ، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کیلئے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہئے۔