وقف ترمیمی بل کیخلاف مسلم پرسنل لا بورڈ کا 13 مارچ کو جنتر منتر پر احتجاج

,

   

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف 13 مارچ کو جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پہلے یہ مظاہرہ 10 مارچ کو طے تھا لیکن تکنیکی وجوہات کی بنا پر تاریخ میں تبدیلی کی گئی۔ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ احتجاج وقف املاک، مساجد، قبرستانوں، درگاہوں، مدارس اور دیگر مذہبی اداروں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے وقف ترمیمی بِل 2024 کو پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں منظور کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس پر مسلم کمیونٹی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ بِل وقف املاک پر قبضے کا راستہ ہموار کرے گا اور مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی ورثہ کو نقصان پہنچائے گا۔ اس لیے اسے فوراً واپس لیا جانا چاہیے۔مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مذہبی تنظیموں نے اس بِل کے خلاف پارلیمانی مشترکہ کمیٹی کو خطوط لکھے اور ان سے ملاقات کرکے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹرچندر بابو نائیڈو اور بہار کے چیف منسٹرٰ سے بھی اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی جس میں واضح کیا گیا کہ مسلم کمیونٹی اس بِل کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔بورڈ کی مجلسِ عاملہ نے فیصلہ کیا ہے کہ 13 مارچ کو ہونے والے مظاہرے میں تنظیم کے مرکزی قائدین، مذہبی رہنما، سماجی کارکن اور عام مسلمان بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ احتجاج میں دلت، آدیواسی اور او بی سی طبقات کے سماجی و سیاسی رہنماؤں کے ساتھ سکھ اور عیسائی مذہبی رہنما بھی شامل ہوں گے۔