منگلورو، 16 اگست (یو این آئی) وندے ماترم کے معاملے پر تنازع اتوار کو مزید شدت اختیار کرگیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے یہاں ارووا پولیس تھانے میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی کے خلاف شکایت درج کرائی اور ان پر نئی دہلی میں کانگریس کے یومِ آزادی پروگرام کے دوران قومی گیت کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا۔یہ شکایت 15 اگست کو منعقدہ پروگرام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد درج کرائی گئی، جس میں سونیا گاندھی کو وندے ماترم کی مکمل پیشکش کے دوران کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب اشارہ کرتے اور ان سے بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے ان اشاروں کو وندے ماترم کی پیشکش پر اعتراض یا اسے روکنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس طرح یہ معاملہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان ایک نئے سیاسی تنازع کا سبب بن گیا ہے ۔بی جے پی نے قومی علامات کے تئیں کانگریس کے عزم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی اور سرکاری تقریبات میں وندے ماترم کو بھی قومی ترانے کی طرح احترام دیا جانا چاہیے ۔بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے کانگریس قیادت پر وندے ماترم کے مکمل ورژن کے حوالے سے طویل عرصے سے اعتراضات رکھنے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا۔ بی جے پی نے اس تازہ واقعے کو کانگریس کے اس تاریخی فیصلے سے جوڑا ہے ، جس کے تحت قومی اجتماعات میں گیت کے صرف پہلے دو بند پیش کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ بنکم چندر چٹرجی کی تخلیق کردہ اس نظم کے بعد کے بندوں میں ہندو دیوی دیوتاؤں، جن میں درگا، لکشمی اور سرسوتی شامل ہیں، کے حوالے ملتے ہیں۔
پارٹی نے گیت کی پیشکش سے متعلق تاریخی بحث کو کانگریس کے موقف پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کیا ہے ۔1937 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ قومی اجتماعات میں صرف پہلے دو بند گائے جائیں، کیونکہ ان بندوں کو زیادہ وسیع پیمانے پر قابلِ قبول سمجھا گیا تھا۔ اس کے بعد سے بی جے پی کانگریس پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ اس نے سیاسی اور فرقہ وارانہ مفادات کے پیش نظر قومی گیت کے معاملے میں سمجھوتہ کیا۔بی جے پی نے سرکاری تقریبات میں وندے ماترم کو زیادہ قانونی تحفظ فراہم کرنے کی تجاویز کی مبینہ مخالفت پر بھی کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔