7 BLOs میاپنگ کے طریقہ کار سے ناواقف، پرانے شہر میں اردو سے نابلد عملے سے مشکلات
7 نقل مکانی کرنے والے ووٹرس پریشان، متبادل دستاویزات کے با رے میں کوئی صراحت نہیں
حیدرآباد ۔21۔ اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی جامع خصوصی نظرثانی SIR کا عمل عوام کیلئے سہولت کے بجائے پریشانی اور الجھن کا سبب بنتا جارہا ہے۔ شہریوں ، سماجی و رصاکارانہ تنظیموں اور ماہرین کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ریاستی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔ وہ فوری طور پر زمینی سطح پر پیش آنے والی مشکلات کا نوٹ لے۔ اس اہم ترین SIR کے عمل کو شفاف، آسان اور عوام دوست بنایئے ۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر حکومت کی جانب سے مقر کردہ بوتھ لیول آفیسرس (BLOs) ایس آئی آر کے طیرقہ کار سے پوری طرح واقف نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں مناسب تربیت بھی فراہم نہیں کی گئی۔ خاص طور پر میاپنگ کے پیچیدہ طریقہ کار سے لاعلمی کی وجہ سے عوام کو صحیح طریقہ سے رہنمائی نہیں مل رہی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں عوامی شکایات کے بعد 94 BLOs کو ان کی ذ مہ داریوں سے ہٹادیا گیا تاہم نئے مقرر کردہ عملے کو بھی باضابطہ تربیت نہ ملنے سے مسائل برقرار ہیں ۔ SIR کے عمل میں سب سے رکاوٹ 2002 کی ووٹر لسٹ اور موجودہ ووٹر لسٹ کے درمیان میاپنگ کرنا ہے ۔ بڑی تعداد میں ایسے ووٹرس ہیں جن کے نام 2002 کی فہرست میں شامل نہیں تھے لیکن موجودہ فہرست میں موجود ہیں مگر انہیں یہ واضح نہیں کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی حیثیت کیسے برقرار رکھیں۔ اگرچہ کہ 2002 ووٹر لسٹ میں نام شامل نہ ہونے کی صورت میں 11 یا 12 متبادل دستاویزات میں کسی ایک دو کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن ان کے استعمال کے حوالے سے کوئی واضح رہنمائی فراہم نہیں کی جارہی ہے جس کے باعث عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے ۔ شہری اور دیہی علاقوں میں رہائش کی تبدیلی ایک عام عمل ہے جس کی وجہ سے کئی ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے غائب ہوچکے ہیں مگر انہیں دوبارہ اندراج کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ مزید یہ کہ SIR کے عمل کو جون تک ملتوی کئے جانے کے بعد بعض BLOs عوام کو مناسب جواب دینے سے بھی گریز کر رہے ہیں ۔ فیملی میاپنگ کے معاملہ میں بھی سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ دیہی علاقوں کی 2002 ووٹر لسٹ میں شوہر اور بیوی کا نام موجود ہیں اور ایسے لوگ شہر حیدرآباد کے علاوہ دیگر اضلاع کو مستقل طور پر منتقل ہوگئے ہیں تو 2002 کی ووٹر لسٹ سے شوہر کی میاپنگ کرتے ہوئے بچوں کو بھی اس میں شامل کیا جارہا ہے جبکہ بیوی کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں اپنے والدین سے میاپنگ کرانے کا مشورہ دیا جارہا ہے ۔ ایسے معاملات میں جہاں والدین کا انتقال ہوچکا ہے ایسی خواتین کیلئے کوئی واضح حل فراہم نہیں کیا جارہا ہے جس سے شدید غصہ اور بے چینی پائی جارہی ہے ۔ حیدرآباد کے پرانے شہر میں اردو زبان سے ناواقف BLOs کی تعیناتی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے ۔ ووٹرس جب معلومات کے لئے رابطہ کرتے ہیں تو زبان کی رکاوٹ کے باعث انہیں تسلی بخش جواب نہیں مل رہا ہے جس سے شکایتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ عوام نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر منڈل اور وارڈ سطح پر رہنمائی مراکز قائم کئے جائیں۔ اردو بولنے والے علاقوں میں اردو سے واقف عہدیداروںکو تعینات کیا جائے ۔ شوہر اور بیوی کی مشترکہ میاپنگ کیلئے واضح ہدایات جاری کئے جائے۔ انتخابی فہرستوں کی درستگی ایک بنیادی جمہوری حق ہے اور اسے پیچیدہ ضوابط کی نذر نہیں کیا جانا چاہئے۔ 2/k/i