واشنگٹن: ریاستی اٹارنی جنرل کے ایک گروپ نے جمعرات کو مقدمہ دائر کیا جس کا مقصد ایلون مسک کی کوششوں کو روکنا ہے جو وہ وفاقی اخراجات میں کمی کیلئے کر رہے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نئے حکومتی کارکردگی کے ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے وائٹ ہاؤس میں ارب پتی مسک کے اثر و رسوخ میں جو اضافہ ہوا ہے، اس پر اس مقدمے سے قانونی جنگ شدت اختیار کر جائے گی۔نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل اور 13 دیگر ریاستوں کی جانب سے واشنگٹن، ڈی سی کی ایک وفاقی عدالت میں میں دائر کردہ مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی کانگریس کی اجازت کے بغیر مسک کو “بے لگام قانونی اختیار” دے دیا ہے۔ مسک کی ٹیم نے ریپبلکن ٹرمپ کے گذشتہ ماہ صدر بننے کے بعد سے وفاقی ایجنسیوں میں تیزی سے قدم جما لیے ہیں۔ ٹرمپ نے کار ساز کمپنی ٹیسلا کے سی ای او اور دنیا کے امیر ترین شخص مسک کو ایک ڈرامائی حکومتی تبدیلی کے طور پر فضول خرچی کا خاتمہ کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔مسک اور ان کے محکمہ برائے حکومتی کارکردگی یا ڈی او جی ای کو سرکاری کمپیوٹر سسٹم تک رسائی کے حوالے سے رازداری کی خلاف ورزی کے کئی مقدمات درپیش ہیں۔ نئے مقدمے میں مسک کی تقرری کے غیر قانونی ہونے کا الزام لگایا گیا اور ایک ایسے حکم کا مطالبہ کیا گیا ہے جو انہیں مزید حکومتی کارروائی کرنے سے روک دے۔