واشنگٹن، 8 جولائی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کا اعلان نہ ہو سکا۔ تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کا اعلان نہیں ہو سکا۔تاہم، صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم ہو گئی ہے ، انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے پڑوسی ممالک بھی کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہمارے ساتھ ہیں۔روئٹرز کے مطابق امریکی صدر نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی میزبانی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ بات چیت طے کر لی ہے ، انھوں نے فلسطینیوں کو غزہ سے باہر منتقل کرنے کی متنازعہ کوشش پر پیش رفت کا بھی اشارہ دیا۔ عشائیہ کے آغاز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ فلسطینیوں کو ایک ‘‘بہتر مستقبل’’ دینے کے لیے امریکہ اور اسرائیل دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ غزہ کے رہائشی پڑوسی ممالک میں جا سکتے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ جو لوگ غزہ میں رہنا چاہتے ہیں وہ رہ سکتے ہیں لیکن اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو وہ وہاں سے نکل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے میزبان ممالک تلاش کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی واشنگٹن میں کئی گھنٹوں طویل ملاقات ہوئی، اس دوران اسرائیلی حکام قطر میں حماس کے ساتھ بالواسطہ بات چیت کر رہے تھے ، جس کا مقصد امریکی ثالثی میں غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے ایک معاہدے تک پہنچنا ہے ۔
یہ فیصلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ان ممالک کے خلاف ہائی ٹیرف عائد کرنے کی پالیسی کے تحت کیے گئے ہیں، جو ان کی رائے میں تجارت میں امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کرتے ہیں۔ جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدہ اور جنوبی کوریا کے صدر یو سوک یول کو لکھے گئے خطوط میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ یہ ڈیوٹیز یکم اگست سے لاگو ہوں گی۔ غور طلب ہے کہ اپریل میں مسٹر ٹرمپ نے امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہندوستان سمیت کئی ممالک کے خلاف ہائی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ان پر عمل درآمد کو 90 دنوں کے لیے روک دیا تاکہ یہ ممالک امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کر کے اس مسئلے کو حل کر سکیں۔ یہ ڈیڈ لائن 9 جولائی کو ختم ہو رہی ہے ۔ اس سے قبل مسٹر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ 7 جولائی کو کم از کم 12 ممالک کے خلاف اپنے فیصلے کے بارے میں خط لکھیں گے ۔ ہندوستان امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے کے لیے بات چیت کر رہا ہے ، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ ہندوستان کسی بھی ملک کے ساتھ ڈیڈ لائن کے دباؤ میں کوئی معاہدہ نہیں کرتا ہے اور ہندوستانی حکومت کے لیے قومی مفاد سب سے اہم ہے ۔ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ انتظامیہ کے جاپان اور جنوبی کوریا کے خلاف اعلیٰ درآمدی محصولات عائد کرنے کے فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا ہے ۔