پانچ ریاستوں میں الیکشن مگر بنگال پر نظریں

   

عامر علی خاں
ملک کی چار ریاستوں مغربی بنگال، آسام، ٹاملناڈو، کیرالا اور ایک مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری کے جملہ 824 اسمبلی حلقوں میں رائے دہی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور 4 مئی کو نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔ آپ کو بتادیں کہ مغربی بنگال (294 اسمبلی حلقوں) ٹاملناڈو (234 اسمبلی حلقوں)، کیرالا (140 اسمبلی حلقوں)، آسام (126 اسمبلی حلقوں) اور پڈوچیری ( 30 اسمبلی حلقوں) کیلئے بڑے پرجوش انداز میں رائے دہی ہوئی اور خاص طور پر مغربی بنگال میں الیکشن کمیشن نے دو مراحل 23 اور 29 اپریل کو بالترتیب 152 اور 142 حلقوں میں رائے دہی کروائی اور اس بات پر فخر کا اعلان کیا کہ آزادی کے بعد تاریخ میں وہاں دونوں مراحل میں 92 بیانوے فیصد سے زائد پولنگ ہوئی۔ اگرچہ مذکورہ چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیرانتظام علاقہ کے انتخابات کو لیکر سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ دلچسپی پائی جاتی ہے اور جیسا کہ اگزٹ پولس کے ذریعہ یہ بتادیا بھی گیا کہ کس ریاست میں کس پارٹی کو اقتدار ملے گا لیکن میڈیا، سیاسی حلقوں سے لیکر عوامی حلقوں کی تمام تر توجہ کا مرکز ریاست مغربی بنگال بنی ہوئی ہے جہاں 71 سالہ ممتابنرجی اور ان کی پارٹی ٹی ایم سی کا مقابلہ صرف بی جے پی، وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امیت شاہ، ساری مرکزی کابینہ، بی جے پی، این ڈی اے زیراقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ہی نہیں بلکہ بقول ٹی ایم سی قائدین سنٹرل فورسس، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ، انکم ٹیکس، سی بی آئی اور این آئی اے جیسی مرکزی ایجنسیوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے رہا اور بنگال کی شیرنی کی حیثیت سے ہندوستان بھر میں مشہور ممتابنرجی نے ایک خاتون ہوتے ہوئے تنہا ان سب کا مقابلہ کیا۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مغربی بنگال میں 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں رائے دہی کا انعقاد عمل میں آیا۔ الیکشن کمیشن نے ببانگ دہل دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ انقلابیوں کی اس ریاست میں دونوں مراحل میں 92 فیصد سے زیادہ رائے دہی ہوئی جو آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اس مرتبہ گزشتہ اسمبلی انتخابات یعنی 2021ء کے اسمبلی انتخابات کے برعکس صرف 3-6 فیصد رائے دہی زیادہ ہوئی۔ ایک بات ضرور ہیکہ ایس آئی آر کے نام پر کم از کم 27 لاکھ رائے دہندوں کو حق رائے دہی سے محروم رکھا گیا۔ اگر 27 لاکھ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جاتی تو رائے دہی کے فیصد میں مزید اضافہ ہوسکتا تھا۔ ایک بات ضرور ہیکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ابتداء سے ہی ٹی ایم سی کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں 3 مئی 2023ء سے خطرناک نسلی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں وہاں مرکزی فورسس کی زیادہ سے زیادہ کمپنیاں تعینات کی جانی چاہئے تھی لیکن انتخابات کے موقع پر مغربی بنگال میں منی پور سے کہیں زیادہ مرکزی فورس تعینات کی گئیں اور اب واضح طور پر ہدایات جاری کی گئیں ہیں کہ انتخابی نتائج (4 مئی) کے بعد مغربی بنگال میں مزید دو ماہ تک سی آر پی ایف کی 200 کمپنیاں، بارڈر سیکوریٹی فورسس (بی ایس ایف) کی 150 کمپنیاں، سنٹرل انڈسٹریل سیکوریٹی فورسیس (سی آئی ایس ایف) اور شاسترا سیما بل SSB کی پچاس۔ پچاس کمپنیاں تعینات رہیں گی۔ واضح رہیکہ پہلے مرحلہ کی رائے دہی کیلئے ڈھائی لاکھ مرکزی پولیس جوانوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ اس کا مطلب2450 کمپنیاں تعینات کی گئیں (سی اے پی ایف کی ہر کمپنی 100 جوانوں پر مشتمل ہوتی ہے)۔ دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کیلئے 142 حلقوں میں CAPF کی 2321 کمپنیاں تعینات کی گئیں۔ ایک خاتون چیف منسٹر نے وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ پر اس قدرت ہیبت طاری کی کہ مسلح بلٹ پروف فوجی گاڑیاں مغربی بنگال کی سڑکوں پر دوڑتی پھر رہی تھیں۔ عوام میں اعتماد بحال کرنے کے نام پر سنٹرل فورسس کے مارچ کے ذریعہ عوام میں خوف و دہشت پیدا کیا جارہا تھا اور یہ سب کچھ ممتابنرجی اور ان کی پارٹی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے کیا گیا۔ مرکزی فورسس کی اس قدر کثیر تعددا کو دیکھ کر بعض مرتبہ غزہ کا گمان ہورہا تھا جہاں فلسطینیوں پر ظلم و جبر کرنے اسرائیل فورسس بکتربند گاڑیوں کے ساتھ دہشت پھیلاتے ہوئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ مغربی بنگال میں مرکزی فورسیس کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہورہا تھا کہ آیا مغربی بنگال ہمارے ملک کی ریاست ہے یا دشمن کا علاقہ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ صرف اور صرف ریاست میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے اور ممتابنرجی کو غیرجمہوری انداز میں اقتدار سے ہٹانے کیلئے کیا گیا۔ اس کے باوجود بھی مودی یا بی جے پی اپنی فتح کی گیارنٹی نہیں دے سکتے۔ ممتابنرجی کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہ بلاجھجھک کہا جاسکتا ہے کہ انہیں بی جے پی تو دور دنیا کی کوئی بھی طاقت بنا دھاندلی، ہیراپھیری، غیرمنصفانہ، غیرشفاقانہ طریقوں کے شکست نہیں دے سکتی کیونکہ عوام کی اکثریت ممتا اور ٹی ایم سی کے ساتھ ہے اور بی جے پی قیادت کو اس کا اچھی طرح اندازہ بھی ہے۔ اب بات کرتے ہیں اگزٹ پولس کی۔ 7 اگزٹ پولس میں 5 اگزٹ پولس بی جے پی کے حق میں دکھائے گئے ہیں جبکہ دو اگزٹ پولس میں اقتدار پر ممتابنرجی کی واپسی دکھائی گئی ہے۔ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کی خوداعتمادی تو قابل رشک ہے۔ ان کا دعویٰ ہیکہ وہ 4 مئی کے بعد مغربی بنگال واپس ہوں گے اور بی جے پی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کے اس دعویٰ پر ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں ’’سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں‘‘ دوسری طرف امیت شاہ بھی یہی دعویٰ کررہے ہیں کہ مغربی بنگال انتخابات میں کامیابی کے بعد بنگلہ دیشی دراندازوں کو ریاست سے نکال باہر کرے گی۔ مودی جی اور امیت شاہ کے دعوؤں سے جہاں غرور و تکبر کی بو آرہی ہے وہیں دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے کہ آخر دونں کس یقین سے کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوگا۔ ویسے بھی ممتابنرجی نے اس امید کا اظہار کیا کہ مودی حکومت کی لاکھ رکاوٹوں، دھاندلیوں، الیکشن کمیشن اور مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ سازباز کے باوجود ٹی ایم سی 294 میں سے 226 حلقوں میں کامیابی حاصل کرے گی۔ جہاں تک مغربی بنگال اسمبلی الیکشن کا سوال ہے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس قدر کثیر تعداد میں مرکزی فورسیس کو میدان میں اتارا گیا ہے جیسے یہ انتخابات نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کے ساتھ جنگ ہے اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مغربی بنگال کو جمہوری عمل یعنی رائے دہی کو ڈروخوف کے ذریعہ اور شہری زندگی کو فوجیانے کے ایک تجربہ ایک آزمائش کیلئے لیباریٹری کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ اگر خدانخواستہ ان انتخابات میں 2011، 2016 اور 2021ء مسلسل تین مرتبہ کامیابی ح اصل کرنے والی ممتابنرجی کی ٹی ایم سی پر بی جے پی فتح حاصل کرلیتی ہے تو سمجھ لیں یہ جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی اور وہیں سے ہندوستانی جمہوریت و سیکولرازم کی تباہی شدت اختیار کرے گی۔ ویسے بھی شہادت بابری مسجد، گجرات فسادات، بابری مسجد۔ رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ کا فیصلہ مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف ہجومی تشدد کے بھیانک واقعات نے جو پچھلے دس گیارہ برسوں سے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہہ متاثر کرکے رکھ دی ہے جمہوریت و سیکولرازم گنگاجمنی کی ہندوستانی تہذیب کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو مغربی بنگال میں جمہوریت و آمریت، سیکولرازم اور فرقہ پرستی، جمہوری اقدار اور مذہبی خطوط پر عوام کو تقسیم کرنے والے نظریات اور سوچ و فکر کے درمیان مقابلہ ہوا اور ہمیں اس بات کی امید کرنی چاہئے کہ ہر حال میں فتح جمہوریت جمہوری اور سیکولرازم، گنگاجمنی تہذیب، اخوت و بھائی چارگی کی ہوگی۔ تخریبی اور انتشار پسند طاقتوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہرحال مغربی بنگال اسمبلی انتخابی نتائج ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے۔ اگر مغربی بنگال میں بی جے پی کو کامیابی ملتی ہے تو سمجھئے کہ بی جے پی سنٹرل فورس مرکزی ایجنسیوں بشمول الیکشن کمیشن کے ذریعہ ملک کی کسی بھی ریاست میں انتخابات جیت سکتی ہے لیکن اسے ہم جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کی تباہی قرار دیں گے۔