حیدرآباد :۔ شہر میں پبس جو کبھی کورونا وائرس کے ہاٹ اسپاٹس بن گئے تھے پھر اس وبا کی زد میں آنا شروع ہوگئے ہیں ۔ سرمستی کے لیے پبس جانے والے افراد جلد اس وائرس سے متاثر ہورہے ہیں ۔ دراصل پبس کو آنے والوں کا رویہ کوویڈ قواعد اور اس سے متعلق رہنمایانہ خطوط کے مطابق نہیں ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ وہ جلد اس وائرس سے متاثر ہوجاتے ہیں ۔ نوجوان نہ صرف ویک ینڈس بلکہ ہفتہ کے تمام دنوں میں بھی پبس کا رخ اختیار کررہے ہیں ۔ پبس کو جانے والے اس طرح کے اشخاص کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ لوگ جب پبس میں داخل ہوجاتے ہیں تو اس بار کے بارے میں بھول جاتے ہیں اور وہاں مدہوشی کی حالت میں ایک دوسرے کے ساتھ ڈانس کرتے ہیں ۔ یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ ان کے پب کلچر سے اس وبا کو دعوت دے رہے ہیں ۔ اضلاع رنگاریڈی ، میڑچل اور حیدرآباد میں موجود پبس میں روزانہ 200 تا 300 لوگ آتے ہیں ۔ وہاں شام سے رات دیر گئے تک پارٹیاں جاری رہتی ہیں ۔ بنجارہ ہلز ، جوبلی ہلز ، ہائی ٹیک سٹی ، پنجہ گٹہ ، فلم نگر اور دیگر علاقوں کے کسٹمرس پبس میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور ان میں اس کا جنون ہوتا ہے ۔ ان حالات میں ، پبس انتظامیہ کی جانب سے کوویڈ قواعد پر عمل درآمد کرنے کے بجائے انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے ۔۔