حیدرآباد۔ 12۔اکٹوبر(سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ اسمبلی اکبر الدین اویسی نے منیجنگ ڈائریکٹر حیدرآباد میٹرو ریل این وی ایس پرساد سے ملاقات کرتے ہوئے پرانے شہر میں 5.5 کیلو میٹر طویل میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے کاموں کے آغاز کیلئے نمائندگی کی اور فوری طور پر دارالشفاء تا فلک نما میٹرو ریل کے کاموں کے آغاز کو یقینی بنانے پر زور دیا ۔ انہوں نے ایم ڈی کو مکتوب حوالہ کیا اور بتایا کہ ریاستی حکومت نے پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کیلئے گذشتہ بجٹ میں 500 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ اکبر الدین اویسی نے بتایا کہ وہ مسلسل حکومت سے نمائندگی کرتے رہے اور اس پراجکٹ کیلئے وقت کے تعین کو یقینی بنایا پر زور دیا لیکن تاحال پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کا آغاز نہیں ہوا۔ رکن اسمبلی چندرائن گٹہ نے اس پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلسل نمائندگیوں کے باوجود پیشرفت نہ ہونا افسوسناک ہے۔ انہو ںنے ایم ڈی سے خواہش کی کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے ماتحت عہدیداروں کے علاوہ میٹرو ریل پراجکٹ راہداری II پر فوری ترقیاتی و تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے ہدایات جاری کریں اور میٹرو ریل کے آغاز کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ دارالشفاء تافلک نما میٹرو ریل راہداری جو کہ دوسرے مرحلہ میں مکمل کی جانی تھی اب تیسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بھی اس پر کام شروع نہیں ہوپایا ہے۔ گذشتہ انتخابات سے قبل بھی حیدرآباد میٹرو ریل عہدیداروں نے کام شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعض جائیدادوں کو نوٹس کی اجرائی کے بعد اس میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس کے سبب پرانے شہر کے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔م