پرانے شہر میں خانگی فینانسروں کا ظلم ، فینانسروں کا پرائیویٹ پولیس کا رول

   


سرعام گاڑیوں کی ضبطی و ہراسانی ، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
حیدرآباد /11 نومبر ( سیاست نیوز ) شہر کے نواحی علاقوں میں خانگی فینانسرس کا ظلم دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے ۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کا فینانس وصول کرنے کے نام جاری پران افراد کی سرگرمیاں پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔ تعجب کی بات ہے ان کے خلاف شکایت پر کارروائی نہیں ہوتی ۔ پہلے تو شکایت ہی نہیں لی جاتی ۔ دن دہاڑے درمیان سڑک پر یہ افراد کسی بھی شہری کا راستہ روک لیتے ہیں اور گاڑیوں کے فینانس وصول کرنے والے یہ افراد پرائیویٹ پولیس کا رول ادا کر رہے ہیں ۔ سرے عام شہریوں کو فینانس کے اقساط کیلئے رسواء کیا جانے لگا ہے اور شہریوں کی گاڑی کو روکتے وقت خواتین کا بھی لحاظ نہیں رکھتے بلکہ خواتین کے سامنے ہی مرد افراد کو رسواء کیا جارہا ہے ۔ راجندر نگر اور لنگر حوض پولیس اس پرائیویٹ پولیس نما خانگی فینانسروں کی سرگرمیوں پر روک لگانے میں اکثر طور پر ناکام ہوگئی ہے اور ان کی سرگرمیوں کو دیکھا ان دیکھا کرنے کے پولیس پر الزامات پائے جاتے ہیں ۔ عطاپور ، ایرپلی ، راجندر نگر ، ڈیری فام ، سے لنگر حوض اور قریب مہدی پٹنم تک ان خانگی فینانسروں کے ( سیزروں ) گاڑیوں کو ضبط کرنے والوں کا جال پایا جاتا ہے ۔ جو پولیس کی گشتی اور پٹرولنگ پارٹی کی طرز پر ان علاقوں میں گھومتے رہتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں ایک فہرست رہتی ہے ۔ جس میں گاڑیوں کے نمبرات درج رہتے ہیں جو گاڑیوں کی مسلسل تلاش میں رہتے ہیں ۔ جیسے ہی گاڑی نظر آتی ہے انہیں روک لیا جاتا ہے ۔ بدسلوکی اور بدکلامی کی انتہا کردی جاتی ہے اور سرے عام رسواء کرتے ہوئے ہراساں کیا جارہا ہے ۔ گاڑی کا فینانس اور اقساط کو ادائیگی میں ناکام شہریوں کو رسواء کرتے ہوئے انہیں اذیت پہونچائی جارہی ہے اور ان کی جیپ سے رقم چھینے کے واقعات بھی اس دوران دیکھے گئے اور اکثر شہریوں نے ان سیزروں پر ہراسانی کا الزام لگایا ہے ۔ خواتین اور بچوں کے سامنے رسواء کرنے کے غیر انسانی عمل سے بھی یہ لوگ باز نہیں آتے ۔ شہری علاقوں میں جاری اس طرح کی ہراسانی پر روک لگانے والی پولیس خاموشی تماشائی بیٹھی ہوئی ہے اور پولیس کی خاموشی سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ عوام پولیس سے سوال کرتے ہیں کہ آیا انہیں کس بناء پر ایسی کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔ یہ سیزر افراد کیا کوئی قانونی جواز رکھتے ہیں ۔ یا پھر انہیں کوئی قانونی اختیار حاصل ہے جو کھلے عام اپنی من مانی کرتے جارہے ہیں ۔ اکثر شہریوں نے جو ان راستوں پر اپنا کاروبار کرتے ہیں آئے دن ایسے واقعات کو دیکھتے ہوئے بدظن ہوگئے ہیں ۔ جبکہ ان علاقوں میں اکثر پولیس کی گشت جاری رہتی ہے ۔ باوجود پولیس کی چوکسی کے ان سیزروں کے حوصلے بلند ہیں جو تشویش کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ پولیس کے اعلی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے ماتحت عہدیداروں کو ایسی سرگرمیوں پر روک لگانے کیلئے پابند کریں اور عوام میں اعتماد بحال کرنے کے موثر اقدامات کو انجام دیں ۔ ع