پرانے شہر میں میٹرو ریل کیلئے انہدامی کارروائیوں میں کئی عمارتیں متاثر ہوں گے

   

منشی نان کے علاوہ عبادت گاہیں بھی شامل ، 200 متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی
حیدرآباد ۔ 6 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کے پرانے شہر میں میٹرو کی تعمیر کے لیے انہدامی کارروائی مسلسل جاری ہے ۔ حکام نے انہدامی کارروائی کا آغاز کردیا جس میں کئی تاریخی ڈھانچے بھی منہدم کئے جاسکتے ہیں ۔ میٹرو حکام کی جانب سے زد کئے گئے عمارتوں میں منشی نان کی دکان بھی شامل ہے جو 1851 میں قائم کی گئی تھی کا انہدام ناگزیر معلوم ہوتا ہے ۔ کچھ دوسرے بڑے اداروں کے برعکس جنہیں صرف اپنے اگلے حصے ( مین روڈ سے تقریبا 30 فٹ کے فاصلے پر ) قربان کرنے پڑے ہیں ۔ اس چھوٹی سی دکان کے پاس پیچھے ہٹنے کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ منشی نان ایک ادارہ ہے جو روایتی تندور میں نان بناتے ہیں جو دونوں شہروں میں بے حد مقبول ہے ۔ دکان کا نام منشی نان اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کے بانی حیدرآباد کے چوتھے نظام ناصر الدولہ 1829 تا 1857 کے درمیان کے دور میں منشی کے طور پر کام کیا تھا ۔ واضح طور پر شہر میں کچھ انتہائی اہم مقامات یا تو متاثر ہوں گے یا پھر منہدم ہوجائیں گے ۔ یہ حقیقت ہے کہ منشی نان جیسا قدیم ادارہ ختم ہوجائیگ ا اور امید کی جارہی ہے کہ منشی نان ادارہ دوسرے مقام منتقل ہوگا ۔ اگر میٹرو حکام تھوڑی سی نرمی کرتے ہیں تو یہ قدیم ادارہ برقرار رہ سکتا ہے ۔ میٹرو تعمیر کی زد میں آنے والے دیگر ڈھانچوں میں کئی تاریخی عمارتیں شامل ہیں ۔ کئی املاک کے مالکان کو پہلے ہی چیک سونپے جاچکے ہیں ۔ دارالشفاء کو مکمل طور پر منہدم نہیں کیا جائے گا ۔ اس تاریخی مقام کی صرف باونڈری وال ہی متاثر ہوگی جو 1590 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا ۔ یہ اصل میں دواخانہ اور میڈیکل کالج تھا جسے محمد قلی قطب شاہ نے بنایا تھا ۔ آج یہ ایک عاشور خانہ کے طور پر قائم ہے ۔ میٹرو کی زد میں آنے والے میں عزا خانہ زہرا ایک عاشور خانہ ہے جو 1941 میں آخری نظام نے اپنی والدہ زہرا بیگم کی یاد میں بنایا تھا ۔ میٹرو کی تعمیر میں پرانے شہر کے کئی تاریخی اور یادگار ڈھانچوں سے محروم ہونا پڑے گا ۔ پرانے شہر میں 800 جائیدادوں کے لیے ابتدائی طور پر نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ۔ 200 سے زائد متاثرین کو معاوضہ ادا کیا گیا ۔ جس کے بعد ہی انہدامی کارروائی شروع کی گئی ۔ میٹرو کے تعمیر کے مکمل ہونے کے بعد پرانے شہر میں یہاں کے حالات ہی بدل جائیں گے ۔ ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت نے جو وعدہ کیا تھا اسے تکمیل کیا جارہا ہے ۔ میٹرو ریل کے کام کے آغاز کے ساتھ روزگار کے موقع بھی فراہم ہونے کی امید ہے ۔۔ ش