پرچہ افشاء کے خلاف پیر کو تمام اسمبلی حلقوں میں کانگریس کا دھرنا، 29 مارچ کو کاکتیہ یونیورسٹی میں احتجاج، ریونت ریڈی کی پد یاترا 6 اپریل تک ملتوی

   

حیدرآباد۔24۔مارچ (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے پبلک سرویس کمیشن کے امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے خلاف ریاست گیر سطح پر احتجاج کا اعلان کیا اور کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کی جدوجہد کیلئے ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا 6 اپریل تک ملتوی رہے گی۔ قیامگاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے 27 مارچ کو ریاست کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں ایک روزہ احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا۔ تمام ضلع کانگریس کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی ہیں کہ صبح 10 تا شام 5 بجے تک ضلع ہیڈکوارٹرس پر دھرنا منظم کریں اور پرچہ جات کے افشاء کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 29 مارچ کو کاکتیہ یونیورسٹی ورنگل میں طلبہ کے احتجاجی پروگرام میں وہ حصہ لیں گے۔ یکم اپریل سے ریاست کی تمام یونیورسٹیز کے طلبہ سے ملاقات کا پروگرام شروع کیا جائے گا اور ریونت ریڈی تمام یونیورسٹیز کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اہم قائدین کے ساتھ نئی دہلی پہنچ کر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی ڈائرکٹر سے نمائندگی کی جائے گی ۔ پرچہ جات کے افشاء معاملہ میں جانچ کی درخواست کرتے ہوئے یادداشت پیش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اپریل کے دوسرے ہفتہ میں حیدرآباد میں بڑے پیمانہ پر احتجاجی پروگرام منظم کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ 30 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کو انصاف دلانے کیلئے کانگریس کمربستہ ہوچکی ہے۔ انہوں نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ کو بے فیض قرار دیا اور کہا کہ بی آر ایس حکومت افشاء معاملہ میں حقیقی خاطیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افشاء معاملہ میں کے ٹی آر ملوث ہیں ، لہذا انہیں کابینہ سے برطرف کیا جائے ۔ صدرنشین پبلک سرویس کمیشن جناردھن ریڈی اور سکریٹری انیتا رامچندرن کی معطلی کا مطالبہ کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ سی بی آئی یا برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات میں حقائق منظر عام پر آئیں گے۔ ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبہ کے روبرو مباحث کا چیلنج کیا۔ر