پسماندہ طبقات کے 42 فیصد تحفظات کے حق میں آج نئی دہلی میں مہا دھرنا

   

راہول گاندھی، ریونت ریڈی، بھٹی وکرامارکا و دیگر کی شرکت متوقع، بی سی تحفظات کو دستور کے نویں شیڈول میں شامل کرنے مطالبہ

انڈیا الائنس کی پارٹیوں کو شرکت کی دعوت

حیدرآباد ۔ یکم اپریل (سیاست نیوز) پسماندہ طبقات کو تعلیم، روزگار اور مجالس مقامی میں 42 فیصد تحفظات کی جدوجہد نئی دہلی تک پہونچ چکی ہے۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی بی سی طبقات کی مختلف تنظیموں کی جانب سے کل 2 اپریل کو جنتر منتر پر مہا دھرنا منعقد کیا جارہا ہے جس میں تلنگانہ کی تمام اہم سیاسی پارٹیوں کے علاوہ انڈیا الائنس میں شامل پارٹیوں کے قائدین شرکت کریں گے۔ دھرنے میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ تلنگانہ اسمبلی میں 42 فیصد تحفظات سے متعلق منظورہ بل کو پارلیمنٹ میں منظوری دے کر دستور کے نویں شیڈول میں شامل کیا جائے تاکہ تحفظات پر عمل آوری یقینی ہوسکے۔ بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے 1500 سے زائد قائدین دھرنے میں حصہ لیں گے۔ کانگریس قائد اور لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی، چیف منسٹرتلنگانہ ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، بی سی طبقات کے وزراء پونم پربھاکر، کونڈہ سریکھا، ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی و کونسل دھرنے میں حصہ لیتے ہوئے 42 فیصد تحفظات کو دستور کے نویں شیڈول میں شامل کرنے کا مرکز سے مطالبہ کریں گے۔ تلنگانہ حکومت نے اسمبلی اور کونسل میں بلز کو متفقہ طور پر منظوری دی ہے اور بی آر ایس، بی جے پی، مجلس اور سی پی آئی نے تائید کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مہا دھرنا میں بی آر ایس، مجلس اور بی جے پی کے علاوہ ڈی ایم کے اور دیگر پارٹیوں کے قائدین شرکت کرکے 42 فیصد تحفظات کی مہم کی تائید کریں گے۔ راہول گاندھی نے ملک بھر میں طبقاتی سروے کا مطالبہ کیا تاکہ پسماندہ طبقات کو آبادی کے اعتبار سے تحفظات حاصل ہوں۔ راہول گاندھی چاہتے ہیں کہ تلنگانہ سے بی سی تحفظات کی جدوجہد کا آغاز کیا جائے اور نویں شیڈول میں شمولیت کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی بی سی تحفظات پر عمل آوری یقینی ہوسکتی ہے۔ دستور کے نویں شیڈول میں 42 فیصد تحفظات کی شمولیت کے ذریعہ بی سی تحفظات کو قانونی کشاکش سے بچایا جاسکتا ہے۔ تحفظات سے متعلق کئی مقدمات پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہیں۔ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات پر عمل آوری جاری ہے اور اِن تحفظات کو دستوری تحفظ حاصل ہے۔ توقع ہے کہ چیف منسٹر نئی دہلی میں قیام کے دوران راہول گاندھی سے ریاست کی تازہ ترین صورتحال پر بات کریں گے۔1