رام پورہ گجراں (سنگرور): ملک میں سیاست کے نام پر کچھ بھی ہو مگر روایات زندہ ہیں۔ رواداری زندہ ہے۔ اس کا ایک نمونہ پنجاب میں نظر آیا۔ پنجاب کے ضلع سنگرور کے اس گاؤں میں ایک ہندو خاندان کی جانب سے پہلی مسجد کی تعمیر کے لیے زمین عطیہ کیا گیا۔ جبکہ بات یہیں نہیں رکی اس کی تعمیر کے لیے ہندو برادری کے لوگ بھی سامان اور پیسے لے کر آ رہے ہیں۔ اس وقت اس گاؤں کے 10-12 مسلم خاندانوں کو نماز کے لیے دیربا ٹاؤن (تقریباً 3 کلومیٹر دور) جانا پڑتا ہے۔ محمد جعفر خان نے کہا کہ انہوں نے گاؤں کی پنچایت کے سامنے مسجد کے لیے زمین کے لیے بات کی تھی اور جس کے بعد 3-4 سال پہلے اس کے لیے قرارداد منظور کی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔جب ہم نے تقریباً 4 ہفتے قبل گاؤں کے ایک اجتماع میں مسجد کے لیے زمین کا مسئلہ اٹھایا تو ہندو بھائیوں 54 سالہ بلبیر سنگھ اور 62 سالہ ہرمیش سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ زمین فراہم کریں گے۔جعفر خان نے کہا کہ ہمارے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ ان کے 75 سالہ چچا حنیف خان نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔حنیف خان نے کہاکہ ”ہم اس انمول تحفے کیلئیاپنے ہندو بھائیوں کے شکر گزار ہیں۔