Saturday , December 5 2020

پنجرہ توڑ جہدکار کے خلاف جاری کردہ ضمانت کے خلاف دہلی حکومت کی درخواست کو سپریم کورٹ نے کیانامنظور

نئی دہلی۔ چہارشنبہ کے روز سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کی اس درخواست کو نامنظور کردیاہے جس میں پنجرہ توڑ جہدکار دیونگانا کالیتا کو ضمانت کی مخالفت کی گئی تھی‘ جو اسی سال فبروری میں مخالف سی اے اے احتجاج کے دوران قومی درالحکومت کے نارتھ ایسٹ ضلع میں پیش ائے فسادات کے ضمن میں گرفتارکی گئی تھیں۔

جسٹس اشوک بھوشن کی زیرقیادت ایک بنچ نے دہلی حکومت کی دائرکردہ درخواست کو نامنظور کرتے ہوئے کہاکہ ایک بااثر شخص ہونا ضمانت سے انکار کی وجہہ نہیں ہوسکتا ہے۔

ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو دہلی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے نے کہاکہ کالیتا کافی بااثر فرد ہیں اور دہلی ہائی کورٹ نے بھی کہا ہے وہ اس کیس کی واحد عینی شاہد ہیں۔انہوں نے کہاکہ کچھ محفوظ گواہ بھی موجود ہیں

مذکورہ بنچ میں جسٹس آر ایس ریڈی او رایم آر شاہ نے راجو سے پوچھا کہ کیونکہ وہ گواہوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرسکتے ہیں آیا ایک بااثر فرد کو ضمانت دینے کا زوایہ طئے کیاجاسکتا ہے۔

مذکورہ بنچ نے کہاکہ وہ کالیتا کو دی گئی ضمانت میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔

یکم ستمبر کے روز مذکورہ ہائی کورٹ نے کالیتا کوضمانت دیتے ہوئے کہاتھا کہ پولیس اس بات کو ثابت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے کہ کالیتا نے ایک مخصوص کمیونٹی کی عورتوں کو اکسانے اور نفرت پھیلانے کاکام کیاتھاجبکہ وہ ایک پرامن احتجاج کررہی تھیں جو اس کا بنیادی حق ہے

اس میں کیاگیا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیاگیا‘ جس کو الکٹرانک اورپرنٹ میڈیا میں شائع بھی کیاگیاہے‘ اور اس کے ساتھ پولیس کے کمیرے بھی موجود تھے مگر کہیں پربھی کالیتا پر تشدد بھڑکانے جو الزام لگایاگیاہے اس کے شواہد نہیں ملے ہیں.

ضمانت کے ساتھ عدالت نے کالیتا کو ہدایت دی ہے کہ وہ راست یا بالراست گواہوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے اقدامات اٹھائیں اور بغیر اجازت ملک چھوڑ کر کہیں نہ جائیں۔

ائی پی سی کی مختلف دفعات جس میں فساد‘ غیر قانونی اجتماع اور اقدام قتل کے تحت دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے کالیتا اور گروپ کے دیگر رکن نتاشا ناروال کو گرفتار کیاتھا۔

سال2015میں پنجرہ توڑ کا قیام عمل میں لایاگیاتھا‘ جس کے ذریعہ ہاسٹلس اوردیگر مقامات پر طالبات پر عائد پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائی جاسکے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT