پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے ساتھ دھوکہ : ریونت ریڈی

   

تیسری سب سے بڑی معیشت کا دعویٰ کھوکھلا ، بے روزگاری ، مہنگائی ، روپئے کی گرتی قدر پر تشویش
حیدرآباد ۔ 16 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر اضافہ شدہ قیمتوں سے فوری دستبرداری کا مطالبہ کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پانچ ریاستوں کے انتخابات سے قبل مودی حکومت نے باربار یہ اعلان کیا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا ۔ نتائج کے کچھ ہی دن بعد اضافہ کردینا عوام سے غداری کرنے کے مترادف ہے ۔ ایران ۔ اسرائیل کشیدگی یا جنگی حالات کا بہانہ بناکر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا کسی طور پر جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ اضافہ عام آدمی کی کمر توڑ رہا ہے ۔ انہوں نے مودی حکومت کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا جس میں ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کا فخریہ اعلان کیا جاتا ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر ملک معاشی طور پر اتنا مضبوط ہورہا ہے تو اس فیصلے کا جواز کیسے پیش کیا جاسکتا ہے ۔ مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو ناکارہ حکمرانی اور غلط فیصلوں کا مجموعہ قرار دیا اور کہا کہ اس اضافے سے اہم شعبے بری طرح متاثر ہوں گے ۔ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مہنگی ہوں گی جس کا راست بوجھ عام آدمی کی جیب پر پڑے گا ۔ موجودہ معاشی حالات میں نوجوانوں کے لیے روزگار کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی ۔ چھوٹے اور متوسط درجے کی صنعتوں (MS MEs) کو نقصان ہوگا ۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ محض ایک خالی نعرہ ثابت ہوا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مودی حکومت کا مشہور نعرہ ’ آتمانربھر بھارت ‘ صرف ووٹ حاصل کرنے کا ایک سیاسی حربہ بن کر رہ گیا ہے ۔ عملی طور پر اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ ریونت ریڈی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 10 برسوں سے روپئے کی قدر مسلسل گر رہی ہے اور اب یہ گراوٹ اپنے عروج پرپہونچ گئی ۔ جس نے ملک کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے ۔۔ 2/a/b