نئی دہلی۔ ہندوستانی کھیل برادری نے جمعہ کو احتجاج کرنے والے پہلوانوں کی حمایت میں آگے آنا شروع کردیا ہے جس میں اولمپک گولڈ میڈلسٹ نیرج چوپڑا نے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جلد کارروائی کی درخواست کے ساتھ پہلوانوں کے ساتھ اپنی حمایت ظاہر کی ہے ۔ چمپئن جیولین تھرو چوپڑا کے علاوہ باکسر نکہت زرین، ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا، ہاکی پلیئر رانی رامپال، معروف سابق کرکٹر وریندر سہواگ، ہربھجن سنگھ، عرفان پٹھان، مدن لال اور نوجوت سنگھ سدھو بھی ریسلرز کی حمایت میں سامنے آئے۔ ان کھیلوں کی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار انڈین اولمپک اسوسی ایشن (آئی او اے ) کے صدر پی ٹی اوشا کی جانب سے اپنے کھلاڑیوں کے کمیشن سے رجوع کرنے کے بجائے اپنے احتجاج کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے پر پہلوانوں پر شدید تنقید کے ایک دن بعدکیا ہے۔ پہلوانوں نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا ( ڈبلیو ایف آئی ) کے سربراہ برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی طور پر ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کا الزام لگایا ہے۔ چوپڑا نے ٹویٹ کیا اپنے کھلاڑیوں کو انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر دیکھ کر مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ انہوں نے ہماریقوم کی نمائندگی کرنے اور ہمیں فخر دلوانے کے لئے سخت محنت کی ہے۔ بحیثیت قوم، ہم ہر فردکی سالمیت اور وقار کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، کھلاڑی ہو یا نہ ہو۔ جو ہو رہا ہے کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے، اور اسے غیر جانبداری اور شفاف طریقے سے نمٹا جانا چاہیے۔ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔ پہلوانوں کو اب ملک کے صرف دوسرا انفرادی اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے کے علاوہ کئی دیگر کھلاڑیوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے، 2008 کے بیجنگ گیمز کے شوٹنگ چمپیئن ابھینو بندرا نے بھی حال ہی میں پہلوانوں کے لیے اپنی حمایت کا اظہارکیا ہے۔ پہلوان، جن میں اولمپکس، دولت مشترکہ اور عالمی چمپئن شپ میں میڈل جیتنے والے بجرنگ پونیا، ساکشی ملک اور ونیش پھوگٹ شامل ہیں، گزشتہ ہفتے کے آخر سے قومی دارالحکومت کے قلب میں واقع جنتر منتر پر احتجاج کررہے ہیں ۔ ڈبل ورلڈ چمپیئن شپ کی گولڈ میڈلسٹ نکہت زرین نے کہا ہمارے اولمپک اور ورلڈ میڈلسٹ کو اس حالت میں دیکھ کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ کھیل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی عزت کامیابی سے قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ میں پوری امید اور دعا کرتی ہوں کہ قانون اپنا راستہ اختیارکرے اور جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے۔ جئے ہند۔ ثانیہ مرزا نے ٹویٹ کیا ایک ایتھلیٹ کے طور پر لیکن ایک خاتون کے طور پر یہ دیکھنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے ہمارے ملک کا نام روشن کیا ہے اور ہم سب نے ان کے ساتھ جشن منایا ہے.. اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو اب کھڑے ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اس مشکل وقت میں بھی ان کے ساتھ ہیں۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور سنگین الزامات ہیں۔ مجھے امید ہے کہ جو بھی سچائی ہے انصاف ہوگا۔ اگرچہ کسی بھی موجودہ ہندوستانی کرکٹر نے اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن کچھ سابق کھلاڑیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ہمارے چمپئنز جنہوں نے ملک کا نام روشن کیا، پرچم لہرایا اور ہم سب کے لیے اتنی خوشیاں دی، آج انہیں سڑک پر آنا پڑا۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کی غیر جانبداری سے تحقیقات ہونی چاہیے۔ امید ہے کہ کھلاڑیوں کو انصاف ملے گا۔ سہواگ نے ٹویٹ کیا۔ سابق آف اسپنر اور عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رکن پارلیمنٹ ہربھجن نے لکھا، ساکشی، ونیش ہندوستان کا فخر ہیں۔ مجھے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے اپنے ملک کا فخر سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلتے ہوئے دکھ ہوا ہے۔ میری دعا ہے کہ انہیں انصاف ملے۔ عرفان پٹھان نے لکھا، ہندوستانی کھلاڑی ہمیشہ ہمارے لیے فخر کا باعث ہوتے ہیں جب کہ وہ ہمارے لیے میڈلس حاصل کرتے ہیں ۔ مدن لال نے کہا ہمارے کھیلوں کے مردوں اور خواتین کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے۔ پی ٹی اوشا کے تبصرے کھلاڑیوں کے اتحاد کے لیے بہترین نہیں ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو، جو اب کانگریس کے ساتھ منسلک ہیں، نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پیرکو جنتر منتر میں پہلوانوں کے ساتھ شامل ہوں گے۔ حیران کن ہے کہ 9 خواتین نے شکایت کی اور کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ یہ ہندوستانی تاریخ میںایک سیاہ باب ہوگا۔