نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے غلطی کا اعتراف کرلیا۔وزیراعظم اور وزیر داخلہ جین۔زی کے غصہ سے بچنے کوشاں
نئی دہلی، 17 اگست (یو این آئی) کانگریس نے یو جی سی ۔ نیٹ کے تین امتحانات کو تقریباً دو مہینے بعد منسوخ کرنے پر مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے ) پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں ’پیپر لیک نکسل‘ہی سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے اور اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے یوم آزادی پر خطاب میں دماغی نکسل کا ریمارک کیا تھا ۔ یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب اور کانگریس کی سینئر رہنما ڈاکٹر چینیکا انیال نے پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یو جی سی ۔ نیٹ امتحان منعقد ہونے کے دو مہینے بعد این ٹی اے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اب تین پیپر دوبارہ کرانے کی بات کہی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب این ٹی اے کو اپنی غلطی معلوم کرنے میں دو مہینے لگ گئے تو نہ جانے اور کتنی غلطیاں ہوں گی، جن سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ یوتھ کانگریس کے صدر نے کہا کہ طلبہ سے امتحانات کے نام پر بھاری فیس لینے کا کوئی جواز نہیں ہے ، اس لیے طلبہ سے تمام امتحانات کی درخواست کے لیے صرف ایک روپیہ فیس لی جانی چاہیے ۔ چب نے کہا کہ شاید بی جے پی حکومت ان غلطیوں کو قسطوں میں سامنے لانا چاہتی ہے ، تاکہ جین۔ زی کا غصہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ پر نہ پھوٹے ۔ انہوں نے کہا کہ جب جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کر رہے تھے تو کانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا ہٹنا پہلا قدم ہے ، آخری نہیں اور آج وہی ہو رہا ہے ۔ جب تک پورے سسٹم میں جوابدہی طے نہیں ہوگی، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان جب مودی اور شاہ سے جوابدہی مانگ رہے تھے تب وزیر اعظم اور وزیرِ داخلہ 20 دن تک ایوان میں نہیں آئے ۔ ایسے میں ان سے جوابدہی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنا ان کی صلاحیت سے باہر ہے ، لیکن جب ملک کی زمین اپنے دوست اڈانی کو دینے کی بات آتی ہے تو وزیر اعظم سے کوئی غلطی نہیں ہوتی، مگر جیسے ہی طلبہ کے مسائل آتے ہیں، حکومت کی کارکردگی صفر ہو جاتی ہے ۔ڈاکٹر انیال نے کہا کہ وزارتِ تعلیم کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ صرف سوالنامے اور جواب کی کاپی سے جڑا نہیں ہے ، بلکہ طلبہ کے جذباتی اور مالی نقصان سے بھی جڑا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ تین امتحانات منسوخ کیے گئے تو کیا ایسی سنگین غلطی کرنے والے حکام اور ماہرین پر کارروائی ہوگی، کیا ان کے نام عام کیے جائیں گے ، کیا طلبہ کو حکومت کی طرف سے ہرجانہ دیا جائے گا اور جن طلبہ کے داخلے کی ڈیڈ لائن نکل گئی ہے ، کیا انہیں معاوضہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ جس نظام سے طلبہ کا مستقبل برباد ہو رہا ہے ، اس پر جواب دینا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ این ٹی اے نے اپنے پریس ریلیز میں قبول کیا ہے کہ یو جی سی – نیٹ کے سوالنامے میں سائنس دانوں کے ناموں کی اسپیلنگ، کتابوں کے عنوانات اور تلفظ تک میں غلطیاں تھیں۔