حیدرآباد۔3۔نومبر۔(سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی چارمینار کے امیدوار کو تبدیل کیا جاسکتا ہے!مجلس اتحاد المسلمین نے حلقہ بہادپورہ کے امیدوار کے نام کا اعلان نہ کرتے ہوئے پرانے شہر کی سیاست میں تجسس کو برقرار رکھا ہے اورحلقہ اسمبلی بہادر پورہ سے امیدوار کے نام کا اعلان نہ کرتے ہوئے رکن اسمبلی چارمینار جناب ممتاز احمد خان کے اقدام کا جائزہ لینے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے اور کہا جار ہاہے کہ اگر ممتاز احمد خان اس اعلان کے بعد بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں رکن اسمبلی بہادر پورہ کو دوبارہ حلقہ اسمبلی بہادرپورہ سے امیدوار بنایا جائے گا جبکہ اگر ممتاز احمد خان بغاوت کرتے ہیں تو حلقہ اسمبلی چارمینار کے مجلسی امیدوار جناب میر ذولفقار علی کو بہادر پورہ منتقل کرتے ہوئے حلقہ اسمبلی چارمینار سے نئے چہرہ کو میدان میں اتارنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔مجلس اتحادالمسلمین نے اپنے سینیئر ترین رکن اسمبلی جناب ممتاز احمد خان کو مجوزہ انتخابات میں امیدوار نہ بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور پارٹی نے اپنے اس فیصلہ سے رکن اسمبلی کو واقف کروادیا تھا بعد ازاں قائد ایوان مقننہ جناب اکبر الدین اویسی ممتاز احمد خان کی ناراضگی دور کرنے کے لئے ان کے رہائش گاہ پہنچ کر زائد از 3 گھنٹے صلح کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی لیکن اس کے بعد سے اب تک بھی ممتاز احمد خان خاموش ہیں اور جماعت کے فیصلہ کا انتظار کر رہے تھے اور آج صدر مجلس نے بھی پریس کانفرنس میں انہیں ٹکٹ نہ دینے کی توثیق کردی اور کہا کہ ان کی جماعت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ ممتاز احمد خان طویل مدت تک حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کی نمائندگی کرنے کے علاوہ گذشتہ 5برسوں سے حلقہ اسمبلی چارمینار کی نمائندگی کررہے تھے ۔ حلقہ اسمبلی چارمینار سے نئے چہرہ کو پیش کئے جانے کے علاوہ خاتون امیدوار کو بھی میدان میں اتارنے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں لیکن آج سابق مئیر میر ذولفقار علی کو حلقہ اسمبلی چارمینار سے امیدوار بنائے جانے کے اعلان کے بعد اب یہ کہا جا رہاہے کہ حلقہ اسمبلی بہادرپورہ جو کہ مجلس کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے اس حلقہ کے امیدوار کا اعلان نہ کئے جانے کے نتیجہ میں اب بھی پرانے شہر کی سیاست میں تجسس برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق جماعت کے قائدین کارکنوں کو ممتاز احمد کی نقل و حرکت کے علاوہ ان کی سرگرمیوں و اقدامات پر نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے تاکہ ان کی جانب سے کسی بھی طرح کے اقدام کی صورت میں فوری طور پر جماعت اپنی دوسری حکمت عملی کو عملی جامہ پہناسکے۔