چندرا بابو نائیڈو 52 دن بعد جیل سے رہا، عبوری ضمانت منظور

   

علاج کیلئے ہائی کورٹ نے 4 ہفتے کی راحت دی، تلنگانہ اور اے پی میں حامیوں کا جشن
حیدرآباد۔/31 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سابق چیف منسٹر و صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو آخر کار 52 دن بعد جیل سے باہر آگئے۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے اِسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں چندرا بابو نائیڈو کو عبوری ضمانت منظور کی ہے اور 28 نومبر کو دوبارہ جیل واپس ہونے کی ہدایت دی گئی ۔ چندرا بابو نائیڈو کو سی آئی ڈی نے 9 ستمبر کو گرفتار کیا تھا اور وہ راجمندری جیل میں عدالتی تحویل میں تھے۔ اے سی بی خصوصی عدالت میں ضمانت کی درخواست مسترد کئے جانے کے بعد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں چندرا بابو نائیڈو کی خرابی صحت کا حوالہ دیا گیا۔ ہائی کورٹ نے کل اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا اور آج عبوری ضمانت منظور کی گئی جو 4 ہفتوں تک جاری رہے گی۔ عدالت نے 28 نومبر کی شام جیل واپس ہونے کی ہدایت دی۔ سینئر وکلاء سدھارتھ لوترا اور سرینواس نے چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے دلائل پیش کئے جبکہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سدھاکر ریڈی نے ضمانت کی مخالفت کی۔ عبوری ضمانت کی منظوری کے ساتھ ہی آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں چندرا بابو نائیڈو کے حامیوں نے آتشبازی کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ سی بی سی آئی ڈی کی جانب سے عدالت میں درخواست داخل کرتے ہوئے شرائط عائد کرنے کی اپیل کی۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکلاء نے بتایا کہ انہیں ڈاکٹرس نے آنکھوں کے آپریشن کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری طرف سی بی سی آئی ڈی نے عدالت کو بتایا کہ عبوری ضمانت میں علاج کی تکمیل تک انہیں دیگر مقدمات میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد چندرا بابو نائیڈو جیل سے رہا کردیئے گئے۔