حیدرآباد۔ 24 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) شہریوں کی صحت پر خصوصی توجہ دینے اور مثالی طبی سہولتیں فراہم کرنے کے سرکاری دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ ریاست تلنگانہ کے سرکاری دواخانوں کو عصری سہولتیں فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت کی پالیسی چنور حلقہ منچریال ضلع میں آشکار ہوگئی۔ چنور اسمبلی حلقہ کا کتے پلی علاقہ ان دنوں وبائی امراض کی لپیٹ میں ہے جہاں شہریوں کا برا حال ہے۔ 250 شہریوں کی آبادی والے اس گاؤں میں تقریباً ہر گھر وبائی امراض سے متاثر ہے۔ ہر گھر میں دو تین افراد امراض کا شکار ہیں اور شدید تکلیف میں مبتلا ہیں۔ کسی کو تیز بخار، کوئی ڈینگو تو کوئی ڈائریا سے متاثر ہے جبکہ مشکل حالات کا شکار شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ گاؤں والوں کی اتنی مالی سکت نہیں کے وہ کسی خانگی دواخانہ میں علاج کرواسکیں۔ بلکہ دوسرے گاؤں اور آس پاس کے علاقہ بھی کتے پلی کی عوام کو لاحق وبائی مرض سے پریشان ہیں۔ اس گاؤں میں صحت و صفائی کا کوئی موثر نظام نہیں ہر طرف گندگی، کچرے کے انبار اور مچھروں کے سبب وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔ شہریوں کے اس سنگین مسئلہ کی عوامی قائدین کو کوئی پرواہ نہیں۔ کتے پلی ولیج کی عوام نے سرکاری اقدامات سے بھروسہ ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس گاؤں کے 70 خاندان شدید وبائی امراض سے پریشان ہیں۔ سرکاری دواخانوں میں علاج کے لئے سہولتوں میں اضافہ کی ضرورت ہے تاکہ کتے پلی کو عوام کو راحت فراہم کی جاسکے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے عوام کو کارپوریٹ طرز کی طبی سہولتیں فراہم کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔وزیر صحت ہریش راؤ کی جانب سے وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد صحت اور طب کے شعبہ پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے لیکن دور دراز مقامات اور دیہاتوں میں عوام اب بھی بہتر طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ع