کلکٹر نے نوجوان کومسئلہ کا دلچسپ حل بتا دیا
رائے پور: چھتیس گڑھ کے سبھی اضلاع میں کلکٹر کو ہفتہ میں ایک دن ’جنتا دربار‘ لگا کر لوگوں کی شکایت سننے اور اس کا حل نکالنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے تحت دْرگ ضلع میں ایک دلچسپ معاملہ سامنے آیا جب ایک شخص کی فریاد سن کر کلکٹر ڈاکٹر سرویشور نریندر کی ہنسی چھوٹ گئی۔ دراصل کلکٹر صاحب جنتا دربار میں ایک ایک کر کے سبھی فریادی کی فریاد سن رہے تھے۔ کسی کو بجلی کا مسئلہ تھا، کسی کو سڑک سے متعلق شکایت کرنی تھی، تو کسی کو آپسی تنازعہ کا حل نکلوانا تھا۔ لیکن ایک شخص ایسا بھی تھا جس کی بات سن کر کلکٹر صاحب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ اس شخص نے کلکٹر صاحب سے کہا کہ ’’میری شادی نہیں ہو رہی ہے، برائے کرم میری شادی کرا دیجیے۔‘‘یہ سننا تھا کہ کلکٹر ڈاکٹر سرویشور زور زور سے ہنسنے لگے۔ انھیں دیکھ کر فریادی نے کہا ’’صاحب طویل مدت سے شادی کی راہ دیکھ رہا ہوں، لیکن شادی نہیں ہو رہی ہے۔‘‘ اس پر کلکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ’’تمھاری شادی تو کروا دیں گے، لیکن لڑکی کہاں ہے؟‘‘ اس سوال پر فریادی جذباتی ہو گیا اور اس نے کہا کہ ’’صاحب آپ ہی کوئی لڑکی ڈھونڈ کر میری شادی کرا دیجیے۔‘‘فریادی کی بات سن کر کلکٹر صاحب کو اس پر رحم آ گیا اور اس کا مسئلہ حل کرنے کے لیے کچھ سوچنے لگے۔ پھر انھوں نے ایک دلچسپ حل نکالا اور اپنے ماتحت ایک افسر کو فریادی کی درخواست دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اجتماعی شادی منصوبہ کے تحت ان کی شادی کروانے کا انتظام کرا دیجیے۔