30 ہاسپٹلس کے خلاف کریمنل مقدمات درج، چھوٹے چھوٹے کلینکس میں بڑے بڑے آپریشنس کے بلز
حیدرآباد۔ 27 ۔ اگست (سیاست نیوز) بغیر طبی علاج کے (سی ایم آر ایف) فنڈس میں مبینہ طور پر غبن کرنے کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد سی آئی ڈی نے اس کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ 30 ہاسپٹلس کے خلاف کریمنل مقدمات درج کئے ہیں۔ شہر حیدرآباد کے بشمول متحدہ اضلاع ورنگل ، نلگنڈہ ، کریم نگر ، رنگا ریڈی کے مختلف ہاسپٹلس میں غیر قانونی طور پر (CMRF) حاصل کرنے کی عہدیداروں نے نشاندہی کی ہے اور گزشتہ دو تین دنوں سے ایسے ہاسپٹلس کیخلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متحدہ ضلع نلگنڈہ میں تین اور متحدہ ضلع کریم نگر میں چار خانگی ہاسپٹلس کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ۔ عہدیداروں کی تحقیقات میں چند چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں ۔ گزشتہ سال ہی سی ایم آر ایف کا غبن ہونے کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد اپریل میں سنٹرل کرائم اسٹیشن(سی سی ایس) پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا ۔ تب چند ہاسپٹلس کے ذمہ داروں کو تحویل میں لیا گیا ۔ سیاسی دباؤ کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔اس کے بعد انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوجانے کے بعد عہدیداروں نے متعلقہ فائل کو بازو رکھ دیا ۔ ریاست میں کانگریس کی حکومت قائم ہونے کے بعد چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے سی ایم آر ایف کی بے قاعدگیوں کو منظر عام پر لانے کی عہدیداروں کو ہدایت دی جس کے بعد سی آئی ڈی نے دوبارہ اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا جس میں پتہ چلا ہے کہ مختلف ہاسپٹلس کے بورڈس پر آویزاں ڈاکٹر س کے ناموں کا بیجا استعمال کرتے ہوئے غبن کیا گیاہے ۔ کسی بھی شک و شبہ کی گنجائش فراہم کئے گئے فرضی بلز تیار کئے گئے ۔لاکھوں روپئے غبن ہونے کی عہدیداروں نے نشاندہی کی ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ جن ہاسپٹلس کے نام سے بلز تیار کئے گئے وہاں پہنچ کر اس کی جانچ کی گئی ۔ سی ایم آر ایف درخواستوں میں درج ہاسپٹلس کے نام اور پتے وہی ہیں تاہم علاج کرنے والے جن ڈاکٹرس کا تذکرہ کیا گیا ہے، اس سے ہم ناواقف ہیں۔ ان ناموں سے ہمارے پاس کوئی ڈاکٹرس کام نہیں کرتے ۔ ہاسپٹل کے ریکارڈ میں ان پیشنٹ نمبرات سے تعلق نہ رکھنے والے افراد سی ایم آر ایف درخواستیں داخل کرنے کی ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے کلینک میں بھی آپریشنس کرنے کی بلز تیار کرتے ہوئے فنڈز حاصل کرنے کی سی آئی ڈی نے نشاندہی کی ہے ۔ 2