چیف منسٹر ریونت ریڈی پر 6 ضمانتوں کے معاملے میں یو ٹرن لینے کا الزام

   

بی آر ایس کو دفن کرنے کا انتباہ دینے والوں کو دھول چٹا جائے گا۔ کے ٹی آر
حیدرآباد /2 فروری ( سیاست نیوز ) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ 6 ضمانتوں کی عمل آوری کے معاملے میں چیف منسٹر کے سی آر نے یو ٹرن لے لیا ہے ۔ مرکز میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں 6 گیارنٹی پر عمل کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں کبھی کانگریس حکومت قائم نہیں ہوگی اور نہ ہی 6 ضمانتوں پر عمل آوری ہوگی ۔ اسمبلی حلقہ میڑچل کے گھٹکیسر میں منعقدہ پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کااظہار کیا اور کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کی جتنے حلقوں پر کامیاب حاصل ہوئی ہے ۔ اس انتخابات میں اتنے بھی نشستوں پر کامیابی حاصل نہیں کرے گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کا موقع آگیا ہے ۔ صرف علاقائی جماعتیں ہی بی جے پی کے بڑھتے قدم کو روک سکتی ہے ۔ دریائے کرشنا میں تلنگانہ کے پانی کے حصہ کا مرکز نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ لیکن اپنے دریاوں کو چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بورڈ کے حوالے کردیا ہے۔ اس لئے بی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کیا پارلیمنٹ میں رہنے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ حقوق کیلئے بی آر ایس ہی جدوجہد کرے گی ۔ کانگریس نے ریاست کے عوام سے 420 وعدے کئے ۔ کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک قرض معافی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے معاوضہ دینے کا ہنوز اعلان نہیں کیا گیا ۔500 روپئے میں پکوان گیس اور دوسرے وعدوں کی عمل آوری میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنائی جارہی ہے ۔ ریونت ریڈی بی آر ایس کو دفن کرنے کا انتباہ دے رہے ہیں ۔ بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے ریونت ریڈی جیسے کئی تیس مار خان کو دیکھا ہے اور انہیں دھول چٹاتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کیا ہے ۔ اگر بی آر ایس کارکنوں کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوتی ہے تو بی آر ایس کے تمام ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل ان کے پاس پہونچ جائیں گے ۔ ہمارے باس دہلی اور گجرات میں نہیں حیدرآباد میں رہتے ہیں ۔ 2